امت نیوز ڈیسک //
جموں: اینٹی کرپشن بیورو(اے سی بی)جموں نے اسٹیٹ انڈسٹریز کارپوریشن میں غیر قانونی تقرری،مستقلی اور ترقی کے معاملے میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور موجودہ ڈپٹی جنرل منیجر سمیت دیگر افراد کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اے سی بی جموں نے اپنے بیان میں کہا کہ اے سی بی جموں نے ایف آئی آر نمبر 01/2026 درج کی ہےجو دفعہ 5(1)(d) بمعہ دفعہ 5(2) جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ 2006 اور دفعہ 120-B آر پی سی کے تحت پولیس اسٹیشن اے سی بی جموں میں درج کی گئی ہے۔اس مقدمے میں آر کے رزدان (اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر SICOP جموں،اب سبکدوش)، کنال چودھری (موجودہ ڈپٹی جنرل منیجر SICOP جموں) اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
اے سی بی بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ آر کے رزدان نے اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اور دیگر افراد کے ساتھ مجرمانہ سازش کے تحت کنال چودھری کو بغیر کسی اشتہار یا اہل امیدواروں سے درخواستیں طلب کیے محض چھ ماہ کے لیے عارضی بنیاد پر ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے طور پر مقرر کیا۔یہ تقرری مکمل طور پر منیجنگ ڈائریکٹر کی صوابدید اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر کی گئی۔ اے سی بی نے کہا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید انکشافات کا امکان ہے۔
مزید انکشاف ہوا کہ صرف چھ ماہ کی عارضی خدمات کے بعد کنال چودھری کو بغیر کسی حکومتی پالیسی،بغیر اہلیت کے معیار پر پورا اترے اور بغیر کسی منظوری کے مستقل کر دیا گیا،جو سراسر غیر قانونی اور من مانی قرار دی گئی۔ بعد ازاں انہیں دیگر اہل اور سینئر امیدواروں کو نظر انداز کرتے ہوئے بغیر کسی اشتہار کے منیجر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
اے سی بی کے مطابق، اس پورے عمل کے ذریعے آر کے رزدان نے مجرمانہ سازش کے تحت کنال چودھری کو غیر قانونی فائدہ پہنچایاجس کے نتیجے میں انہیں تنخواہ،الاونسز اور سینیارٹی کی شکل میں مالی فوائد حاصل ہوئے اور وہ ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے تک پہنچ گئے۔






