آج کے دور میں اگرچہ ماضی کے مقابلے میں زندگی کی سہولیات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، تعلیم کے مواقع وسیع ہوئے ہیں اور ٹیکنالوجی نے سیکھنے کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، بلکہ اب آرٹیفشل انٹیلی جنس کا زمانہ آگیا ہے۔مگر اس کے باوجود طلبہ کو درپیش ذہنی دباؤ میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خاص طور پر بورڈ امتحانات اور مسابقتی امتحانات کے دوران بچوں پر والدین، تعلیمی اداروں اور سماج کی جانب سے جو دباؤ ڈالا جاتا ہے، اس کی شدت کا اندازہ صرف وہی بچے لگا سکتے ہیں جو اس کٹھن مرحلے سے گزرتے ہیں۔ مغربی دنیا جہاں دنیا ایجادات اور نئی ٹیکنالوجی کی کھوج میں ہے وہیں اس دنیا میں بچے آج بھی نمبرات میں کھو گئے ہیں۔
امتحانات کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے، جہاں نمبروں کو کامیابی کا واحد پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی بلند توقعات، اساتذہ کا سخت رویہ، اور سماج کا مسلسل موازنہ بچوں کو شدید ذہنی تناؤ، خوف اور مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ناکامی کو جرم اور کم نمبروں کو ذلت تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث بچے خود کو ناکارہ اور بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔ رواں برس بھی وادیٔ کشمیر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایسے کئی دل دہلا دینے والے واقعات پیش آئے، جہاں امتحانات میں ناکام ہونے والے طلبہ نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ واقعات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت سانحہ ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین انتباہ بھی ہیں کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ایک امتحان یا ایک نتیجہ کسی بچے کی صلاحیت، ذہانت یا مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ زندگی کے راستے متعدد ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے سماج میں ناکامی کو قبول کرنے کی روایت کمزور ہے۔…
بچوں کو یہ سکھانے کے بجائے کہ ناکامی سیکھنے کا ایک مرحلہ ہے، ہم انہیں خوف اور دباؤ کے ایسے حصار میں قید کر دیتے ہیں جہاں انہیں خودکشی کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ خاص طور پر وادی میں جب بھی کسی مسابقتی امتحان کے نتائج سامنے آتے ہیں تو کیسے ٹیوشن مراکز ان کامیاب بچوں کو اشتہار کے طور پر استعمال کرتے ہیں یہ ہم سب کو معلوم ہے لیکن اس کا منفی اثر ناکام ہویے بچوں پر کتنا پڑتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
جموں و کشمیر میں طلبہ کے درمیان بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور خودکشی کے افسوسناک واقعات کے پیشِ نظر حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے تمام اضلاع میں ضلعی سطح کی مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت کا تحفظ، نفسیاتی مسائل کی بروقت نشاندہی اور خودکشی جیسے المناک واقعات کی مؤثر روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے سرکاری حکم نامے کے مطابق، ہر ضلع میں قائم کی جانے والی کمیٹی کی سربراہی ضلع ترقیاتی کمشنر کریں گے، تاکہ اس اقدام کو انتظامی سطح پر مکمل حمایت اور سنجیدگی حاصل ہو سکے۔حکم نامے کے مطابق، ضلعی مانیٹرنگ کمیٹی میں،چیف ایجوکیشن آفیسر،چیف میڈیکل آفیسر،ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر،سول سوسائٹی کا ایک نمائندہ بطور رکن شامل ہوں گے، تاکہ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مربوط حکمتِ عملی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ کمیٹیاں تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت کی صورتحال کا باقاعدہ جائزہ لیں گی، خطرے سے دوچار طلبہ کی نشاندہی کریں گی اور بروقت مشاورت، طبی مدد اور سماجی تعاون فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کریں گی۔ اس کے علاوہ، خودکشی کے خدشات والے معاملات میں فوری مداخلت اور متعلقہ اداروں کے درمیان تال میل کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔حالیہ برسوں میں تعلیمی دباؤ، امتحانات کا تناؤ، معاشی مسائل اور سماجی دباؤ کے باعث طلبہ میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہی عوامل کئی نوجوانوں کو مایوسی اور ذہنی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خودکشی جیسے انتہائی اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔
حکومت کا ماننا ہے کہ ان کمیٹیوں کے قیام سے نہ صرف ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی بلکہ تعلیمی اداروں میں ایک محفوظ، معاون اور ذہنی صحت دوست ماحول بھی فروغ پائے گا۔
این سی آر بی کے اعدادوشمار
جموں کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں یہ صورت حال تشویشناک تصویر بیان کرتی ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سال 2023 کے دوران ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ اکہتر ہزار افراد نے خودکشی کی۔رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں طلبہ کی تعداد نہایت تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ سال 2023 میں پورے ملک میں 13 ہزار 892 طلبہ نے خودکشی کی، جو گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔جو تعلیمی نظام اور طلبہ کی ذہنی صحت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں تقریباً 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2013 میں جہاں یہ تعداد تقریباً 8 ہزار 400 تھی، وہیں 2023 میں بڑھ کر قریب 13 ہزار 900 تک پہنچ گئی، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جموں کشمیر سرکار کی طرف سے یہ صحیح وقت پر اٹھایا گیا قدم ہے، لیکن ان کمیٹیاں کا فائدہ تبھی ہو گا اگر عملی سطح پر یہ مؤثر طریقے سے کام کریں، تو طلبہ میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔





