امت نیوز ڈیسک //
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران کے پاس امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود نہیں، اس لیے مجبوراً خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکی فوجی اڈے خطے کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں، جو کسی بھی ممکنہ تنازعے کی صورت میں خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ مذاکرات جلد از جلد ہونے چاہییں۔
انہوں نے اس گفتگو کے کچھ حصے اپنے ذاتی ٹیلی گرام چینل پر بھی شیئر کیے، جہاں انہوں نے لکھا کہ ایران اس وقت جنگ کے لیے اس 12 روزہ جنگ سے بھی زیادہ تیار ہے جو جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہوئی تھی، تاہم سفارت کاری کے لیے بھی ایران کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے بقول، ایران نے سفارت کاری کا راستہ چُنا ہے اور امید ہے کہ امریکہ بھی یہی راستہ اختیار کرے گا۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ یورینیئم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرنا ایران کے لیے مذاکرات کے دائرے سے باہر ہے، تاہم انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ایران میں یورینیئم کی افزودگی صرف پرامن مقاصد کے لیے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کا میزائل پروگرام ایک دفاعی نوعیت کا معاملہ ہے اور اس پر کسی قسم کی بات چیت نہ اب ممکن ہے اور نہ مستقبل میں۔
ادھر ذرائع کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اہم موضوع کے طور پر اٹھائیں گے۔






