امت نیوز ڈیسک //
پلوامہ : پاکستان میں مساجد کے اندر ہونے والے حالیہ بم دھماکوں کی نیشنل کانفرنس کے سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سخت اور پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے ان حملوں کو انسانیت، اسلام اور امن کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا کسی بھی مذہب یا نظریے میں جائز نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز قبل پاکستان کے مختلف علاقوں میں مساجد کے اندر دھماکوں کے واقعات پیش آئے، جن میں شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ ان افسوسناک واقعات کے بعد وادیٔ کشمیر میں بھی شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، جہاں شیعہ کمیونٹی سے وابستہ لوگوں نے پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف نعرے بلند کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مساجد جیسے مقدس مقامات کو نشانہ بنانا پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ شرم ہے اور ایسے واقعات سے نفرت اور تقسیم کو فروغ ملتا ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج مسلم دنیا کے کئی ممالک میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں فرقہ وارانہ تشدد اور عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مساجد پر حملے اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ہم بحیثیتِ مسلمان اللہ تعالیٰ کی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام امن، بھائی چارے اور انسانیت کا درس دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کچھ عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے مذہب کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمام مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیں اور بے گناہ انسانوں کے قتل کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔





