امت نیوز ڈیسک //
ڈھاکہ، 22 فروری : بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ بھارت میں قائم بنگلہ دیشی سفارتی مشنز پیر سے سیاحتی ویزا سروس دوبارہ شروع کر دیں گے۔
حکومتِ بنگلہ دیش نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھارت میں اپنے سفارتی مشنز سے سیاحتی ویزوں کا اجرا عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ تاہم 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے، جس کے پیشِ نظر پیر سے سیاحتی ویزا سروس مکمل طور پر بحال کی جا رہی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے عہدیدار کے مطابق نئی دہلی میں قائم بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے علاوہ گوہاٹی، اگرتلہ، ممبئی اور کولکاتا میں موجود سفارتی مشنز میں سیاحتی ویزوں کے علاوہ دیگر اقسام کے ویزے زیادہ تر جاری رہے۔ البتہ سیاحتی ویزوں کا اجرا عمومی طور پر روک دیا گیا تھا، تاہم ہنگامی معاملات میں ویزے جاری کیے جاتے رہے۔
عہدیدار نے کہا کہ حکومت نے باقاعدہ طور پر سیاحتی ویزا سروس کی معطلی یا بحالی کا اعلان نہیں کیا تھا، تاہم اب پیر سے اس سروس کو وسیع پیمانے پر دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر 15 جنوری سے 15 فروری تک بھارت میں موجود مشنز کو سیاحتی ویزے معطل رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بھارت کے علاوہ سکیورٹی خدشات کے باعث بھوٹان اور نیپال جیسے ممالک میں بھی ویزا سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی۔ اب مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد تمام اقسام کے ویزے دوبارہ جاری کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے بھارتی سیاحتی ویزا سروس تاحال معطل ہے، اگرچہ بعض دیگر اقسام کے ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔
عبوری حکومت کے دوران، جس کی قیادت پروفیسر محمد یونس کر رہے تھے، بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم 12 فروری کے انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم طارق رحمان کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔
نئی کابینہ کی حلف برداری تقریب میں بھارتی اسپیکر اوم برلا کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے شرکت کی اور وزیرِ اعظم سے ملاقات بھی کی۔





