امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے فوراً بعد اپنی تجارتی پالیسی میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے دنیا بھر سے امریکہ آنے والی تمام درآمدات پر 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے سابقہ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے چند گھنٹوں بعد اوول آفس سے نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا گیا، جس کے تحت یہ محصول تقریباً فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فخر کے ساتھ اس حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی شق 122 کے تحت اٹھایا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر ٹیرف کی شرح میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق نیا عالمی ٹیرف ابتدائی طور پر 150 دن تک نافذ رہے گا۔ اس مدت کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات اور محصولات کی شرح کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں بعض ممالک پر اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، خصوصاً ان ممالک پر جن پر امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی رویہ اختیار کرنے کا الزام ہے۔ سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صدر 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت کانگریس کی منظوری کے بغیر ٹیرف نافذ نہیں کر سکتے۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے اسے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ اگر صدر کسی ملک پر پابندیاں لگا سکتا ہے تو معمولی درآمدی محصول کیوں نہیں لگا سکتا۔
صدر ٹرمپ نے جسٹس بریٹ کیوانا کی اختلافی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی اختیارات مستقبل میں محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی سلامتی سے متعلق سیکشن 232 اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف سیکشن 301 کے تحت بھی نئے ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گزشتہ برس وصول کیے گئے تقریباً 175 ارب ڈالر کے ٹیرف ریونیو پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ یہ رقم ممکنہ طور پر ریفنڈ کے دائرے میں آ سکتی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق عدالت نے اس حوالے سے کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کی۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ نئے قانونی اقدامات کے ذریعے 2026 میں ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے۔





