امت نیوز ڈیسک //
جموں، 22 فروری : جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں اتوار کے روز سکیورٹی فورسز کیساتھ جھڑپ میں ایک اور ملی ٹینٹ مارا گیا، جس کے بعد جاری ’’آپریشن تراشی-اوّل‘‘ میں ہلاک ہونے والے ملیٹنٹس کی مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے، حکام نے بتایا۔
تازہ جھڑپ چھاترو علاقے میں پیش آئی، جہاں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیمیں گزشتہ کئی روز سے گھنے جنگلاتی علاقوں میں تلاشی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فوج کے وائٹ نائٹ کور کے مطابق کاؤنٹر انسرجنسی فورس (ڈیلٹا) کے اہلکاروں نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر دشوار گزار علاقے میں صبح تقریباً 11 بجے چھپے ہوئے ملیٹنٹس سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملیٹنٹ مارا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے لاش اور ایک ہتھیار برآمد کیا گیا ہے، جبکہ ہلاک شدگان کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کا تعین کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل دن کے آغاز میں آپریشن کے دوران دو ملیٹنٹس ہلاک کیے گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے مقابلہ گاہ سے دو اے کے-47 رائفلیں اور دیگر اسلحہ بھی برآمد کیا تھا۔
یہ آپریشن جموں و کشمیر پولیس، انٹیلی جنس بیورو اور فوج کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا، جن میں چھاترو اور ملحقہ جنگلاتی علاقوں میں ملیٹنٹس کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
جنوری میں شروع کیا گیا ’’آپریشن تراشی-اوّل‘‘ ضلع کشتواڑ کے پہاڑی علاقوں بشمول چھاترو، سونر، دولگام اور ڈچھھر میں ملیٹنٹس کی تلاش اور خاتمے پر مرکوز ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران ان علاقوں میں متعدد محاصرہ اور تلاشی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق علاقے میں مزید ملیٹنٹس کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر تلاشی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ (کے این ایس)






