امت نیوز ڈیسک //
گلمرگ : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وِنٹر گیمز کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گلمرگ میں مصنوعی برف (آرٹیفیشل اسنو) متعارف کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بدلتے موسمی حالات کے پیش نظر اب صرف قدرتی برفباری پر انحصار پائیدار حل نہیں ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے پیر کے روز کھیلو انڈیا ونٹر گیمز کے چھٹے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہا: ’’موسمیاتی تبدیلی سرمائی کھیلوں اور سیاحت دونوں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں برفباری کے انداز غیر متوقع ہو گئے ہیں جس کے باعث طویل مدتی منصوبہ بندی پر نظر ثانی ناگزیر ہو گئی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے خطاب کے دوران کہا کہ ’’حکومت، گلمرگ کو عالمی معیار کے اسکیئنگ مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے اور خواہش رکھتی ہے کہ موسمی رکاوٹوں کے باوجود یہاں کھیلوں کی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’مصنوعی برف تیار کرنے کا نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سرمائی کھیلوں کا تسلسل برقرار رہے اور سیاحتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔‘‘
انہوں نے اس منصوبے سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ونٹر ٹورزم سے وابستہ ہزاروں افراد – جن میں ہوٹل مالکان، گائیڈز، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور چھوٹے کاروباری شامل ہیں – اپنی روزی روٹی کے لیے اسی سیزن پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس شعبے کو محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عمر عبداللہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کھلاڑیوں اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ جموں و کشمیر سے مزید بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی اگھر کر سامنے آ سکیں۔ انہوں نے کشمیری اسکیئر عارف خان کی عالمی سطح پر کامیابیوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’’کھیلو انڈیا ونٹر گیمز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے نئی راہیں ہموار کریں گے۔‘‘
کھیل سرگرمیاں جموں کشمیر کی شناخت: منوج سنہا
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی افتتاح تقریب میں شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ ’’کھیل، جموں و کشمیر کی شناخت اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کھیل افراد کو جوڑتے ہیں، مضبوط کردار سازی میں مدد دیتے ہیں اور کھیلو انڈیا سرمائی کھیل اب ایک مقابلے سے بڑھ کر قومی سطح کے جشن کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔





