امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 20 مارچ: تاریخی جامع مسجد میں سات سال کے وقفے کے بعد جمعۃ الوداع کی نماز ادا کی گئی، جس میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے شرکت کی اور پرانے شہر کی اس عظیم مسجد میں غیر معمولی اجتماع دیکھنے میں آیا۔
وادی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نمازیوں نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کی اس اہم عبادت میں شرکت کی۔ مسجد اور اس کے اطراف میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع رہی اور روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے۔
انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ نماز کی ادائیگی پرامن طور پر انجام دی جا سکے۔ سکیورٹی اہلکار مختلف مقامات پر تعینات رہے جبکہ بڑے اجتماع کو منظم رکھنے کے لیے نقل و حرکت کو بھی منظم کیا گیا۔
سخت سکیورٹی کے باوجود فضا پُرسکون رہی اور نمازیوں نے نہایت سکون اور نظم و ضبط کے ساتھ نماز ادا کی۔ بہت سے افراد نے اس موقع کو ایک تاریخی اور اہم لمحہ قرار دیا۔
سکیورٹی حکام نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ نماز کی ادائیگی بغیر کسی رکاوٹ کے پُرامن طریقے سے جاری رہی۔ ان کے مطابق تمام انتظامات مؤثر ثابت ہوئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
جمعۃ الوداع کو دینی اعتبار سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہوتا ہے اور وادی کی بڑی مساجد میں اس موقع پر ہمیشہ بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔
ادھر میرواعظ عمر فاروق نے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں اس دوران اپنے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔






