امت نیوز ڈیسک //
تہران: ایران کی خواتین قومی فٹبال ٹیم کو آسٹریلیا سے واپسی پر تہران میں سرکاری سطح پر شاندار استقبال دیا گیا، جبکہ ٹیم کی چند کھلاڑیوں کی جانب سے پناہ کی درخواست اور پھر اس سے دستبرداری نے بین الاقوامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔
ایشیائی کپ کے دوران ٹیم کی سات ارکان نے آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا۔ بعد ازاں ان میں سے پانچ کھلاڑیوں نے اپنی درخواست واپس لے لی اور ٹیم کے ساتھ ایران واپس لوٹ آئیں، جبکہ دو کھلاڑی اب بھی آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایران کی ٹیم نے اپنے پہلے میچ سے قبل قومی ترانے کے دوران خاموشی اختیار کی، جس پر سرکاری میڈیا نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور بعض حلقوں نے انہیں “غدار” قرار دیا۔
واپسی پر تہران کے مرکزی علاقے میں ہزاروں افراد نے کھلاڑیوں کا خیر مقدم کیا، جہاں حکام نے انہیں وطن سے وفاداری کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ایران ان کا محفوظ گھر ہے۔






