امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن، 23 مارچ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ براہِ راست اور “مثبت” مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک کے درمیان نہایت تفصیلی، سنجیدہ اور تعمیری بات چیت ہوئی، جس کا مقصد جاری کشیدگی کا مکمل اور مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات آئندہ ہفتے بھی جاری رہیں گے اور اسی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے فوجی کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کو ابنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دیا گیا 48 گھنٹوں کا امریکی الٹی میٹم ختم ہونے والا تھا۔ ایران نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو خلیجی خطے میں “ناقابلِ واپسی تباہی” ہو سکتی ہے۔
دریں اثنا، انٹرنیشنل ایٹامک اینرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گورسی نے حال ہی میں کہا تھا کہ جاری فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے مذاکرات پر آمادہ ہونے کے امکانات کم ہیں، تاہم تازہ پیش رفت اس مؤقف میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ تہران سفارتی حل کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے سکیورٹی ضمانتیں اور ممکنہ نقصانات کا ازالہ ضروری ہوگا۔
ادھر Alexander Lukashenko نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکہ کو ایک ثالثی منصوبہ پیش کیا ہے، جبکہ عمان کو بھی خطے میں سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکراتی کردار کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ پانچ روزہ وقفہ مزید بڑھا دیا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں فوجی کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل منڈیوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے، جو اس وقت کسی بھی بڑی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔




