امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 24 مارچ: وزیرِ اعظم مودی نے راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث دنیا بھر کی طرح بھارت میں بھی گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، تاہم حکومت ایندھن اور توانائی کی مسلسل سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں اپنے بیان میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے اور اس کے اثرات بھارت کی تجارتی اور توانائی سپلائی لائنز پر بھی پڑے ہیں۔
توانائی سپلائی کو یقینی بنانے کے اقدامات
مودی نے کہا کہ حکومت پٹرول، ڈیزل، خام تیل، گیس اور کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 11 برسوں میں بھارت نے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی تعداد 27 سے بڑھا کر 41 کر دی ہے تاکہ کسی ایک خطے پر انحصار کم کیا جا سکے۔
سمندری راستوں اور بھارتی شہریوں پر تشویش
وزیرِ اعظم نے کہا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری کام کر رہے ہیں اور ان کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز میں کئی تجارتی جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں بھارتی ملاح بھی موجود ہیں، جو بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
سفارتی رابطے جاری
مودی کے مطابق بھارت ایران، اسرائیل اور امریکہ سمیت خطے کے تمام اہم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کم ہو اور امن کا راستہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ بھارت کا مؤقف واضح ہے کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
جنگ کے آغاز سے اب تک بھارتیوں کی واپسی
وزیرِ اعظم نے ایوان کو آگاہ کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک تین لاکھ بہتر ہزار سے زائد بھارتی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا جا چکا ہے، جبکہ صرف ایران سے ایک ہزار سے زائد افراد کو نکالا گیا ہے۔




