امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 24 مارچ :مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے باعث بھارت میں ایل پی جی کی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ممکنہ طور پر 14.2 کلو کے گھریلو سلنڈر میں صرف 10 کلو گیس فراہم کر سکتی ہیں تاکہ دستیاب گیس کو زیادہ صارفین تک پہنچایا جا سکے۔
تاہم وزارتِ پیٹرولیم کے حکام نے ان خبروں کو قیاس آرائی اور افواہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وزارت کی جوائنٹ سیکرٹری سجاتا شرما کے مطابق: “اس طرح کی باتیں محض افواہیں ہیں، عوام کو ان پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔”
سپلائی کی موجودہ صورتحال
حکومت کا کہنا ہے کہ گھریلو ایل پی جی کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔
حالیہ مہینوں میں بھارت نے مقامی سطح پر ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے، جس سے اب ملک کی 50 سے 60 فیصد طلب اندرونِ ملک پوری کی جا رہی ہے، جبکہ پہلے یہ شرح تقریباً 40 فیصد تھی۔
بھارت اپنی مجموعی ایل پی جی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کی بڑی مقدار خلیجی ممالک سے آتی ہے۔
آبنائے ہرمز کا اثر
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل اور گیس کے جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس سے بھارت سمیت کئی ممالک کی توانائی سپلائی پر اثر پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق:
چند ہی ایل پی جی جہاز حالیہ دنوں میں بھارت پہنچے ہیں۔کئی جہاز خلیج میں اجازت کے انتظار میں کھڑے ہیں۔




