امت نیوز ڈیسک //
تہران — ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے تعمیری بات چیت جاری ہے، وزارتِ خارجہ ایران نے اس بیان کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ بات چیت نہیں ہو رہی۔ بیان میں امریکی صدر کے دعوے کو عالمی توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرنے اور فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے “مکمل اور حتمی حل” کے لیے تعمیری گفتگو کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران کے بجلی گھروں اور اہم توانائی تنصیبات پر مجوزہ حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
اس اعلان کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں بہتری آئی، جسے ماہرین نے کشیدگی میں ممکنہ کمی کے اشارے کے طور پر دیکھا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ایران کا مؤقف واضح ہے کہ جنگ اس نے شروع نہیں کی، اس لیے تنازع کے خاتمے کے لیے دباؤ واشنگٹن پر ڈالا جانا چاہیے۔
یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہے اور خطے میں سفارتی حل کے امکانات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔


