امت نیوز ڈیسک //
کلگام، 9 اپریل : محبوبہ مفتی نے جمعرات کو حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ غریب عوام کو نظر انداز کر رہی ہے جبکہ امیر طبقے کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی جانب سے پیش کیے گئے کئی عوامی فلاحی بلوں کو اسمبلی میں مسترد کر دیا گیا، جبکہ ایسے اقدامات کو منظوری دی گئی جو ان کے بقول “امیر ہوٹل مالکان” کے حق میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں سے متعلق ایک بل کو رد کر دیا گیا، جبکہ زمین سے متعلق ایک اور تجویز بھی مسترد کر دی گئی، خاص طور پر اس وقت جب ان کی پارٹی نے بلڈوزر کے استعمال کی مخالفت کی۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت نے بہتر حکمرانی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے پیر پنجال، کوکرناگ، ترال اور نورآباد کو نئے انتظامی ڈویژن اور اضلاع بنانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ان کے تمام مطالبات کو مسترد کر دیا گیا۔
انہوں نے عوامی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ انہیں مفت بجلی کی امید تھی۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف مفت بجلی نہیں دی گئی بلکہ حکومت نے مزید دو بجلی منصوبے بھی این ایچ پی سی کے حوالے کر دیے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی فیصلے عوام، خاص طور پر غریب طبقے، کی توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔






