امت نیوز ڈیسک //
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فیصل بن فرحان اور عباس عراقچی کے درمیان تنازع کے آغاز کے بعد پہلی بار باضابطہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالات کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ یہ اہم رابطہ اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جسے خطے میں امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے اس کے بعد متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ترکی اور اردن کے اپنے ہم منصبوں سے بھی رابطے کیے تاکہ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ سعودی عرب نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدام نہ صرف کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ ایک جامع اور پائیدار امن کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک پر حملے بند کیے جائیں اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ عالمی توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب، جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں پر حملے جاری رکھے، جبکہ ایران نے سعودی عرب کی مشرقی-مغربی آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ ایران نے اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا۔





