امت نیوز ڈیسک //
بیجنگ: چین نے منگل کے روز کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کے ارد گرد امریکی ناکہ بندی "خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ” ہے۔ چین کا مذمتی بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسلامی جمہوریہ کے حامی ممالک کے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد خلیج میں ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی کا حکم دیا تھا۔ یہ ناکہ بندی پیر کو دوپہر دو بجے (مقامی وقت کے مطابق) سے نافذ العمل ہے۔ امریکہ اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اس کے باوجود ٹرمپ یہ اقدامات کررہے ہیں۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "امریکہ نے فوجی تعیناتی میں اضافہ کیا اور ناکہ بندی کی ایک ہدفی کارروائی کی، جس سے صرف کشیدگی بڑھے گی اور جنگ بندی کے پہلے سے نازک معاہدے کو نقصان پہنچے گا اور آبنائے (ہرمز) سے بحفاظت گزرنے کے عمل کو مزید خطرے میں ڈالے گا”۔
چین کی وزارت خارجہ امریکی بحریہ کی اس ناکہ بندی کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا۔
ایران نے پہلے ہی آبنائے ہرمز کو دشمن ممالککے لیے بند کر دیا تھا۔ اس آبی گزرگاہ سے صرف ان ممالک کے جہازوں کو ہی گزرنے کی اجازت دی گئی تھی جو ایران کو اپنا دوست سمجھتے ہیں، جس میں چین بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو فنڈز سے محروم کرنا اور ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار بیجنگ پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے تہران پر دباؤ بنائے۔ آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں تہران کے سفیر نے ٹرمپ کی ناکہ بندی کو ایران کی خودمختاری کی "سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے منگل کو خلیج اور مشرق وسطیٰ میں اقوام کی خودمختاری کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ امن مذاکرات کو فروغ دینے میں "تعمیری کردار” ادا کرتا رہے گا۔
شی نے یہ تبصرے بیجنگ میں ابوظہبی کے شہزادہ شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران کیے، جو اس مسئلے پر چین کا دورہ کرنے والے جنگ سے متاثر ممالک کے کئی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔



