امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے حدبندی (ڈیلیمٹیشن) سے متعلق بل پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔ لوک سبھا میں تین بلوں آئینی ترمیم (131واں)، ڈیلیمٹیشن بل اور دیگر پر بحث کے دوران روح اللہ مہدی نے کہا کہ ان کی جماعت ان بلوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ وفاقی ڈھانچے اور ریاستوں کے درمیان توازن کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب جموں و کشمیر نے 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا تو وہاں کے عوام نے اپنے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ وہ تحفظات ایک ایک کر کے ختم کیے گئے۔ مہدی نے خبردار کیا کہ اگر نئی حدبندی نافذ کی گئی تو جنوبی ریاستوں کو نقصان ہوگا اور طاقت کا توازن شمالی ریاستوں کی طرف جھک جائے گا۔ ان کے مطابق اس عمل کے بعد صرف چار یا پانچ بڑی ریاستیں ملک کے فیصلوں پر حاوی ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ “اگر اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، مہااشٹرا اور راجستھان جیسے بڑے صوبے مل کر کوئی فیصلہ کر لیں تو دیگر ریاستیں کچھ نہیں کر سکیں گی، حتیٰ کہ جموں و کشمیر کے معاملات بھی وہی طے کریں گے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت بنگال کو کشمیر جیسی صورتحال کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے اور کہا کہ “انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر میں کیا ہوا ہے۔”
روح اللہ مہدی نے وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں خواتین ریزرویشن بل کی مخالف ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں خواتین ریزرویشن کی حمایت کرتی ہیں، لیکن وہ اس بل کی آڑ میں حدبندی کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششوں کی مخالفت کر رہی ہیں۔
مہدی نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل پہلے ہی پارلیمنٹ میں منظور ہو چکا ہے اور تمام جماعتوں نے اس کی تائید کی تھی، اس لیے موجودہ تنازع دراصل حدبندی کے طریقہ کار پر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں حدبندی کے دوران آبادی کے تناسب کو اس انداز میں تبدیل کیا گیا جس سے مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچے۔ ان کے مطابق یہ خدشہ اب پورے ملک میں پایا جا رہا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
روح اللہ مہدی نے کہا کہ حکومت آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے، جو جمہوری اصولوں اور وفاقی نظام کے لیے خطرناک ہیں۔ روح اللہ کی تقریر پر وزیر داخلہ امت شاہ نے اعتراض جتایا جس کے بعد انہیں تقریر ختم کرنے کےلئے کہا گیا اور ان کا مائیک بند کردیا گیا تاہم روح اللہ یہ کہتے رہے کہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔




