ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس روزہ جنگ اور اسکے بعد مذاکرات اور پھر دو ہفتوں کی جنگ بندی اگر چہ ہوگئی لیکن دنیا میں خام تیل اور گیس کی قلت اب بھی برقرار ہے اور اگر آج جنگ ختم بھی ہوجائے تو بھی اس کو معمول پر آنے کے لیے وقت لگے گا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی برادری کوشش کر رہی ہے کہ دوسرے دور کی بات چیت کے لیے پھر سے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے تاکہ اس جنگ کا دائمی حل نکالا جائے۔ اس حوالے سے واضح اشارے بھی مل رہے ہیں کہ دوسرے دور کی بات چیت اگلے ہفتے متوقع ہے اور اس جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس چالیس روزہ جنگ میں جہاں ایران کو قریب 300 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا، تین ہزار ے زائد اموات ہوئی دوسری طرف سے لبنان میں اسرائیلی جارحیت میں دو ہزار سے زائد افراد مارے۔ اسکے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مہنگائی میں کافی حد تک اضافہ ہواہے، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں ۔ اسکے ساتھ ساتھ کئی ممالک میں تیل کی قلت بھی نظر آرہی ہے۔ دوسری طرف سے وادی کشمیر کا دستکاری کا شعبہ بھی اس جنگ سے بری طرح متاثر رہے بغیر نہ رہ سکا۔ دستکاری صنعت میں شال بافی، قالین بافی، لکڑی کی نقش کاری، پیپر ماشی، کڑھائی، تانبے کے برتن، نمدا اور بید کی مصنوعات شامل ہیں۔ اس دستکاری کی صنعت کے ساتھ تقریباً چار لاکھ دستکار وابستہ ہیں۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر جاوید احمد ٹینگا نے بتایا ہے کہ جنگ کے باعث صنعت کو شدید مالی خسارے کا سامنا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے باعث نئے آرڈرز موصول نہیں ہو رہے جبکہ کچھ بھیجی گئی کھیپ کی ادائیگیاں بھی موصول نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ شپنگ اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو 3,000 روپے سے بڑھ کر 4,500 روپے فی کوریئر ہو گئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے بڑے خریداروں نے بھی بڑے آرڈرز روک دیے ہیں، جس سے صنعت پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔وہیں قالین کے تاجر فیاض احمد شاہ، جو دنیا کے دوسرے بڑے ریشمی قالین کی تیاری کی نگرانی کر رہے ہیں، نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو یہ منصوبہ روکنا پڑ سکتا ہے۔
معروف کارپٹ ایکسپورٹر، کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل اور کے سی سی آئی کے مطابق اس وقت وادی کشمیر میں کروڑوں روپے مالیت کا اسٹاک رکا ہوا ہے جبکہ تقریباً 400 کروڑ روپے مشرقِ وسطیٰ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اب تک تقریباً 600 آرڈرز منسوخ ہو چکے ہیں اور خلیجی، یورپی اور مشرقی ایشیائی منڈیوں سے کوئی نیا آرڈر سامنے نہیں آیا۔ وہیں ایکسپورٹر طارق غنی کا کہنا ہے کہ اگر مشرقی وسطیٰ میں جنگ ختم نہ ہوئی تو 50 ہزار سے زائد افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈنمارک، متحدہ عرب امارات اور بیجنگ میں ہونے والی تین نمائشیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے سرینگر میں دستکاروں کے حوالے سے ایک پروگرام کے دوران کہا کہ وادی میں 80 کاریگروں کی دکانیں بند ہو چکی ہیں۔ جس سے اس دستکاری کے شعبے کی بگڑتی صورتحال کو بیان کرتی ہے۔ وہیں اگر بے روزگاری کی بات کی جایے تو پہلے ہی قومی شرح کے مقابلے میں اس وقت جموں کشمیر میں بے روزگاری کی شرح دوگنی ہے۔حالیہ اسمبلی اجلاس میں جموں و کشمیر حکومت نے انکشاف کیا کہ جموں کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو کہ قومی اوسط 3.5 فیصد کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔ سرکار کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 3.49 لاکھ نوجوان ڈسٹرکٹ ایمپلائمنٹ اینڈ کاؤنسلنگ سینٹرز میں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں نوجوان ایسے بھی ہیں جو اس نظام سے باہر ہیں اور خود روزگار کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔حکومت نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ بے روزگاری میں اضافہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور خودکشی جیسے مسائل کو بڑھا سکتا ہے، اور اس کے تدارک کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک طرف سے جہاں دستکاری کی صنعت کو مشرقی وسطیٰ کے موجودہ حالات خسارے کا سامنا کرنا پڑا وہیں اگر یہ جنگ ختم نہ ہوئی تو آنے والے ماہ اس صنعت کو مزید خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے….





