• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, اپریل ۱۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
انتخابی مہم کی  سیاسی نفسیات اور  بنکھو وزیر اعلیٰ گانا

100 روزہ سفر نشے کے خلاف عزم، اور نئی زندگی کی جانب ایک روشن قدم

اعجاز بابا

by امت ڈیسک
17/04/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

نشہ کے خلاف 100 روزہ مہم، نشہ مکت ابھیان کے تحت، ایک بروقت، بامقصد اور نہایت قابلِ تحسین اقدام ہے جو ہمارے معاشرے کے مستقبل کے تحفظ کے لیے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے نازک وقت میں جب منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک خاموش مگر مہلک خطرہ بن چکا ہے، اس نوعیت کی منظم اور مسلسل مہم نہ صرف حکومتی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بیداری کا پیغام بھی ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ منشیات کا ناسور صرف فرد کو ہی نہیں بلکہ خاندان، معاشرتی اقدار اور اجتماعی ترقی کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اس لیے اس کے خلاف جدوجہد کو وقتی اقدام کے بجائے ایک مسلسل تحریک کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

اس مہم کی قیادت اور رہنمائی یقیناً لائقِ تحسین ہے۔ معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی بصیرت افروز قیادت نے اس مہم کو ایک واضح سمت اور مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کی انتظامی صلاحیت، فعال حکمرانی اور سماجی برائیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نے منشیات کے خلاف اس جدوجہد کو نئی توانائی بخشی ہے۔ انہوں نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کیا بلکہ عوامی شمولیت کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا، جو اس مہم کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی، جس میں پاسپورٹ کی معطلی اور آدھار کارڈ کی منسوخی جیسے اقدامات شامل ہیں، لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت میں منشیات کے ناسور پر قابو پانے کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے اقدامات اُن عناصر کے لیے واضح پیغام ہیں جو معاشرتی تانے بانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں کہ ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

تاہم، سخت قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ اصلاح اور بحالی پر توجہ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔ اُن افراد کے لیے باقاعدہ کونسلنگ سیشنز اور نشہ چھڑانے کے پروگرامز کا انعقاد کیا جانا چاہیے جو ماضی میں اس غلط راستے کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ایک متوازن حکمتِ عملی، جو سختی کے ساتھ اصلاح کے مواقع بھی فراہم کرے، ہی ایک صحت مند اور نشہ سے پاک معاشرے کی دیرپا بنیاد رکھ سکتی ہے۔

اسی طرح عمر عبداللہ کی جانب سے اس مہم کی حمایت اور سنجیدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ منشیات جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحدہ لائحہ عمل اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب قیادت ایک صفحے پر ہو تو اس کے مثبت اثرات نچلی سطح تک پہنچتے ہیں اور عوام میں اعتماد اور تعاون کا جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔

تاہم، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی سماجی مہم کی کامیابی صرف حکومتی اقدامات تک محدود نہیں رہ سکتی۔ نشہ مکت ابھیان کی اصل روح اسی وقت اجاگر ہوگی جب معاشرے کے تمام طبقات اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔ نوجوان، جو اس لعنت کا سب سے بڑا ہدف بھی ہیں اور اس کے خلاف سب سے بڑی طاقت بھی، انہیں اس تحریک کا ہر اول دستہ بننا ہوگا۔ ان کی توانائی، جذبہ اور جدید سوچ اس مہم کو ایک حقیقی عوامی تحریک میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم، کھیل اور ہنر مندی کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ منفی رجحانات سے دور رہ سکیں۔

عوامی نمائندوں کا کردار بھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے حلقوں میں عملی اقدامات کریں، عوام سے براہِ راست رابطہ قائم کریں اور منشیات کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دیں۔ گاؤں، قصبوں اور شہروں میں عوامی اجتماعات، سیمینارز اور آگاہی مہمات کے ذریعے اس پیغام کو گھر گھر تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سول سوسائٹی تنظیمیں اس مہم کو دیرپا اور مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وہ نہ صرف آگاہی پھیلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی، نفسیاتی معاونت اور سماجی انضمام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ان کا پیغام اور اثر و رسوخ عوام کے دلوں تک براہِ راست پہنچتا ہے، اس لیے اگر وہ منشیات کے خلاف آواز بلند کریں اور اسے ایک اخلاقی و روحانی مسئلہ کے طور پر پیش کریں تو اس کے مثبت اثرات انتہائی دور رس ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ اس مہم میں قانون نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ بحالی کے پہلو کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔ منشیات کے عادی افراد کو مجرم کے بجائے ایک مریض کے طور پر دیکھنا ہوگا جسے علاج، ہمدردی اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ بحالی مراکز کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے، جہاں متاثرہ افراد کو نہ صرف طبی علاج فراہم کیا جائے بلکہ انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کے قابل بھی بنایا جائے۔ اس حوالے سے حکومت، غیر سرکاری تنظیموں اور کمیونٹی کے درمیان اشتراک ناگزیر ہے۔

تعلیمی ادارے اس مہم کی کامیابی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کے نقصانات کے حوالے سے باقاعدہ نصاب، ورکشاپس اور آگاہی پروگرام متعارف کرائے جائیں تاکہ طلبہ کو ابتدائی سطح پر ہی اس خطرے سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں، ثقافتی سرگرمیوں اور تخلیقی مواقع کو فروغ دے کر نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ 100 روزہ مہم دراصل ایک علامتی آغاز ہے,ایک ایسی تحریک کا جو اگر سنجیدگی، خلوص اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائے تو ایک بڑے سماجی انقلاب کی بنیاد بن سکتی ہے۔ یہ محض وقتی مہم نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی میدان میں آئیں۔ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں، اساتذہ ان کی رہنمائی کریں، سماجی رہنما آگاہی پھیلائیں اور حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے نبھائیں۔ جب معاشرے کا ہر فرد اس مہم کا حصہ بنے گا تو ہی اس کے حقیقی نتائج سامنے آئیں گے۔

آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ نشہ مکت ابھیان ایک امید کی کرن ہے-ایک ایسا قدم جو اگر درست سمت میں آگے بڑھایا جائے تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صحت مند اور باوقار زندگی فراہم کر سکتا ہے۔ اب یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں بلکہ اسے ایک دیرپا تحریک میں بدل دیں، تاکہ ہمارا معاشرہ واقعی ایک روشن اور منشیات سے پاک مستقبل کی طرف گامزن ہو۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

آدابِ عامہ اور حق الطریق: ایک مطالعہ

10/04/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

بے چینی کی زہریلی لہریں چہار سو: وجوہات، تدارک اور مستقبل

10/04/2026
حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے منفرد اور بلند مقام

حضرت سخی زین الدین ولی ( المروف زینہ شاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے منفرد اور بلند مقام

03/04/2026
جب “مفت علاج” صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے: کشمیر کی زمینی حقیقت

جب “مفت علاج” صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے: کشمیر کی زمینی حقیقت

03/04/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

جھوٹی پرتیں: اصلیت میں ہی عافیت ہے

20/03/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

تعلیمی میدان میں نجی اور سرکاری اداروں کی بیک وقت ضرورت

13/03/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »