امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 24 اپریل: وزیر اعلی عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ نہ دینے کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ نوشہرہ میں حالیہ سیاسی سرگرمیوں کے بعد بی جے پی کی جانب سے “سچ سامنے آ گیا ہے” کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ اس لیے نہیں دیا جا رہا کیونکہ انہوں نے این سی کو ووٹ دیا۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کے وعدوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے دعوے اور وعدے اب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں اپوزیشن لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی ان کی غیر موجودگی میں زیادہ پُرسکون اور نتیجہ خیز رہی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بی جے پی کے رہنما سنیل شرما نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ “مناسب وقت پر” دیا جائے گا، نہ کہ کسی ایک شخص کے وزیر اعلیٰ بننے کی بنیاد پر۔
سنیل شرما نے مزید کہا کہ ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں ہی دیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ عوام سے کیے گئے وعدے جیسے مفت سلنڈر، ایک لاکھ نوکریاں اور 200 یونٹ مفت بجلی کہاں ہیں، اور مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ ان وعدوں کی وضاحت کریں۔






