امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ،: گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ کے اندر توڑ پھوڑ اور عملے پر حملے کے واقعے کے بعد معاملہ کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دراصل کچھ افراد کے ایک گروہ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ کے احاطے میں اس وقت ہنگامہ کیا جب اسپتال میں دورانِ علاج بیمار کی موت واقع ہوگئی، جس کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی کرنے والے گروہ نے اسپتال کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ جس کے سبب ڈیوٹی پر موجود طبی عملے کے کچھ افراد زخمی ہو گئے۔
ایک سرکاری افسر نے کہا کہ واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیا گیا ہے اور متعلقہ دفعات کے تحت ایک باقاعدہ مقدمہ (ایف آئی آر نمبر 118) درج کیا گیا ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور اس کے پس منظر کو جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ فی الحال چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ مزید کی شناخت کی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اننت ناگ کے سریگفوارہ سے تعلق رکھنے والے ایک سوگوار خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ میں ان کی والدہ خدیجہ کی موت طبی غفلت کا نتیجہ ہے، جس کے باعث عوامی سطح پر شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوگوار خاندان نے وزیر صحت سکینہ ایتو اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیں۔
اسپتال کی املاک کو نقصان پہنچا
اس سلسلہ میں سرکاری ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک اسپتال کے اندر توڑ پھوڑ اور حملہ کے ایک واقعہ کے بعد ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ لوگوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ کے احاطے میں ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں اسپتال کی املاک کو نقصان پہنچا اور طبی عملے کے ارکان زخمی ہوئے جو اس وقت ڈیوٹی پر تھے۔
ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات
انہوں نے کہا کہ واقعہ کا نوٹس لیا گیا ہے اور قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ (ایف آئی آر نمبر 118) درج کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ان حالات کا پتہ لگانے کے لیے کہ اس واقعے کی وجہ کیا ہے۔ چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید کی شناخت کی جا رہی ہے۔”
جی ایم سی اسٹاف کی مبینہ غفلت سے موت
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک غمزدہ خاندان نے الزام لگایا ہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ میں ان کی والدہ کی موت طبی لاپرواہی کا نتیجہ تھی، جس سے بڑے پیمانے پر تشویش اور عوامی غم و غصہ پھیل گیا۔ لواحقین نے وزیر صحت سکینہ ایتو اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر زور دیا ہے کہ وہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیں اور ذمہ داروں کے خلاف احتساب کو یقینی بنائیں۔





