• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
اشاعت توحید احیائے سنت کے داعی:مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانیؒ بارہمولہ

اشاعت توحید احیائے سنت کے داعی:مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانیؒ بارہمولہ

الطاف جمیل شاہ سوپور

by امت ڈیسک
01/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

​انسانی تاریخ کے تسلسل میں سوانح نگاری اور تذکرہ نویسی محض ایک ادبی روایت نہیں بلکہ یہ اجتماعی حافظے کی تعمیر اور فکری ارتقاء کا ایک بنیادی ستون ہے۔ وادیِ کشمیر، جسے صدیوں سے "پیر واری” یا "ارضِ اولیاء” کے لقب سے پکارا گیا ہے، علمی اور روحانی اعتبار سے ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے۔ چودھویں صدی ہجری اور بیسویں صدی عیسوی کا درمیانی عرصہ کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسے نازک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سیاسی غلامی، معاشی استحصال اور مذہبی جمود نے مل کر ایک گھمبیر صورتحال پیدا کر دی تھی اس دور میں مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانی نارنتھلی کی شخصیت ایک مصلحِ قوی اور داعیِ حق کے طور پر ابھری، جنہوں نے بارہمولہ کے تاریخی پس منظر میں توحید و سنت کی وہ شمع روشن کی جس نے نہ صرف بدعات کے اندھیروں کو چاک کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن شاہراہ متعین کی۔

​وادیِ کشمیر کا سیاسی و معاشی تناظر اور ڈوگرہ عہد کی سنگینی

مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانی کی اصلاحی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے اس دور کے ان سیاسی محرکات کا ادراک ضروری ہے جنہوں نے کشمیری مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا تھا۔ ریاست جموں و کشمیر کی جدید سیاسی تاریخ کا آغاز 1846ء میں "معاہدۂ امرتسر” سے ہوتا ہے، جس کے تحت انگریزوں نے وادیِ کشمیر کو پچھتر لاکھ نانک شاہی روپوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا ۔ اس "بیع نامے” نے کشمیری عوام کو محض رعایا نہیں بلکہ ایک "خریدی ہوئی جائیداد” کی حیثیت میں تبدیل کر دیا، جہاں حکمران طبقے کی ترجیحات میں عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے معاشی نچوڑ اور سیاسی دباؤ شامل تھا ۔

​ڈوگرہ دورِ حکومت (1846-1947) کو کشمیری مسلمانوں کے لیے ایک "سیاہ دور” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس عہد میں مسلمانوں کے خلاف منظم مذہبی اور نسلی امتیاز برتا گیا ۔ حکومتی مشینری میں مسلمانوں کی نمائندگی کو دانستہ طور پر کم رکھا گیا، جبکہ ریاست کی 77 فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی ۔ اس دور کے انتظامی ڈھانچے میں مسلمانوں کی بے بسی کو درج ذیل تقابلی جائزے سے سمجھا جا سکتا ہے:

ڈوگرہ دور میں مسلمانوں کی انتظامی و سیاسی صورتحال کا جائزہ

اس سنگین صورتحال نے کشمیری مسلمانوں کو نہ صرف معاشی طور پر مفلوج کر دیا تھا بلکہ ان کی علمی اور روحانی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ عام مسلمان جہالت کی وجہ سے توہم پرستی اور غیر اسلامی رسومات میں گھرا ہوا تھا ۔ اسی گھٹن زدہ ماحول میں مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانی نے علم و عمل کے ذریعے ایک نئی روح پھونکنے کا عزم کیا۔

​مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانی: نسبی شرافت اور خاندانی وقار

مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانی کا تعلق کشمیر کے ان معزز سادات خاندانوں سے تھا جن کی جڑیں بغداد کے نجیب الطرفین حسنی سادات اور حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ کے شجرۂ مبارک سے جاملتی ہیں ۔ یہ خاندان مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں کشمیر منتقل ہوا تھا ۔ مولانا کے آباؤ اجداد میں شاہ محمد غوث لاہوریؒ اور شاہ سید محمد عابد خانیاریؒ جیسی ہستیاں شامل تھیں جنہوں نے وادی میں علمِ حدیث اور تصوفِ شرعی کی ترویج میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

​مولانا کے بھائی، مولانا سید محمد یٰسین شاہ گیلانی بھی وادی کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے، جو نہ صرف ایک جید عالم تھے بلکہ طبِ یونانی کے بھی ماہر تھے ۔ ان کا گھرانہ علم و تقویٰ کا گہوارہ تھا، جہاں تربیت کا محور شریعتِ مطہرہ کی پاسداری اور مخلوقِ خدا کی خدمت تھا۔ مولانا عبدالولی شاہ نے اسی فکری ماحول میں آنکھ کھولی اور بچپن سے ہی ان کے اندر حق گوئی اور بے باکی کے جوہر نظر آنے لگے۔

​حصولِ علم کے لیے صبر آزما سفر اور جفاکشی

بیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر کے اندر دینی تعلیم کے باقاعدہ مراکز کی شدید کمی تھی۔ ڈوگرہ ریاست کی پالیسیاں مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں بڑی رکاوٹ تھیں ۔ مولانا گیلانی نے اس صورتحال میں حصولِ علم کے لیے "ترکِ وطن” کا کٹھن فیصلہ کیا۔ ان کا یہ سفر محض تعلیمی نہیں بلکہ ایک ایسی آزمائش تھی جس نے ان کی شخصیت کو کندن بنا دیا
​انہوں نے پنجاب، یوپی اور دہلی کے بڑے علمی مراکز کا رخ کیا۔ اس دوران انہیں شدید غربت اور فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طالبِ علم کے طور پر ان کی استقامت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی کئی دن بھوکا رہنے کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم میں فرق نہ آنے دیا ان کی جفاکشی کے قصے آج بھی زبان زدِ عام ہیں، جیسے ایک مرتبہ بھوک کی شدت میں کسی صاحب کے ہاتھ سے کتے کے لیے ڈالی گئی روٹی کا زمین پر گرنے سے پہلے ہی تھام لینا یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ اس پیاس کی علامت ہے جو انہیں علومِ نبویﷺ کے لیے بے چین رکھتی تھی۔

​علمی اسفار اور اساتذہ کا فیضان

مولانا نے اپنے عہد کے ان جلیل القدر علماء سے فیض حاصل کیا جو علم و تحقیق کے آسمان کے درخشندہ ستارے تھے۔ ان کے اساتذہ کی فہرست میں درج ذیل شخصیات نمایاں ہیں:
​حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ: امام العصر اور محدثِ اعظم، جن کی فکری گہرائی اور فنِ حدیث میں مہارت نے مولانا گیلانی کے علمی ذوق کو جلا بخشی ۔
​حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ: حکیم الامت، جن سے مولانا نے تزکیۂ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کے گر سیکھے۔
​حضرت مفتی کفایت اللہؒ: مفتیِ اعظم ہند، جن کی فقہی بصیرت اور سیاسی تدبر نے مولانا کو پیچیدہ مسائل کے حل میں رہنمائی فراہم کی۔

​ان اکابرین کی صحبت نے مولانا گیلانی کو ایک ایسا متوازن نقطۂ نظر عطا کیا جس میں علم کی پختگی، استدلال کی قوت اور سنت کی اتباع کا حسین امتزاج تھا ان کی چھوڑی ہوئی کتابوں پر موجود علمی حواشی اور طب کے متعلق قیمتی افادات ان کے وسیع مطالعہ اور علمی تبحر کے شاہدِ عدل ہیں۔

​بارہمولہ میں اصلاحِ احوال اور دعوت و تبلیغ کا آغاز

تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا نے اپنے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ بارہمولہ، جو کہ شمالی کشمیر کا ایک اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز رہا ہے، ان کی اصلاحی سرگرمیوں کا محور بنا ۔ اس وقت بارہمولہ اور اس کے مضافات میں مذہبی صورتحال انتہائی ابتر تھی۔ شرک و بدعت کی جڑیں گہری ہو چکی تھیں اور عام عوام قرآنی تعلیمات سے دور ہو کر قبر پرستی اور توہمات میں مبتلا تھے ۔

​مولانا نے اپنے کام کا آغاز انتہائی حکمت اور بصیرت سے کیا۔ انہوں نے درج ذیل تین سطحوں پر اپنی تحریک کو منظم کیا:

​1. تعلیمی بیداری اور مکاتب کا قیام

مولانا کا ماننا تھا کہ جہالت ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے "تعلیم القرآن” اور "صباحی و مسائی مکاتب” کا ایک وسیع جال بچھا دیا تاکہ نئی نسل کی بنیادیں درست عقائد پر استوار ہو سکیں

​2. وعظ و تبلیغ اور عوامی دروس

مولانا کے اسلوبِ بیان میں وہ کشش تھی جو عوام کے دلوں میں اتر جاتی تھی۔ انہوں نے مشکل علمی مسائل کو سادہ پیرائے میں بیان کرنے کا ملکہ حاصل کر رکھا تھا انہوں نے جگہ جگہ درسِ قرآن و حدیث کے حلقے قائم کیے، جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے بھی شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ تعلیم و تربیت کا انتظام کیا گیا۔

​3. احیائے سنت اور ردِ بدعت

آپ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن سنتِ نبویﷺ کا احیاء اور مشرکانہ رسومات کا خاتمہ تھا۔ آپ نے بارہمولہ اور خاص طور پر چھاچھی مولہ جیسے دیہاتوں میں بدعات کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا آپ کی حق گوئی اور بے باکی علامہ اقبال کے اس شعر کا مصداق تھی:

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

مخالفتوں کا سامنا اور صبر و استقامت

​کسی بھی مصلح کے لیے حق کی راہ ہموار کرنا کبھی آسان نہیں رہا۔ مولانا گیلانی کو بھی ان لوگوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جن کے مفادات جہالت اور رسم و رواج سے وابستہ تھے مخالفت کی شدت اس حد تک بڑھ گئی کہ انہیں جسمانی اذیتوں اور نفسیاتی دباؤ کا نشانہ بنایا گیا۔

​آزمائشوں کے مختلف رخ

آزمائش کی نوعیت تفصیلات اثرات و نتیجہ

  • قانونی چارہ جوئی آپ کو جھوٹے مقدمات میں الجھایا گیا تاکہ آپ کی توجہ مشن سے ہٹ جائے۔ اللہ کے فضل سے ہر مقدمے میں سرخرو ہوئے۔
  • قاتلانہ حملے آپ کو زہر دینے کی کوشش کی گئی اور خفیہ و علانیہ حملے کروائے گئے۔ "حسبنا اللہ ونعم الوکیل” کا ورد آپ کا ہتھیار رہا۔
  • سماجی بائیکاٹ مخالفین نے آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا معاشرتی بائیکاٹ کروایا۔ آپ کی استقامت نے لوگوں کو متاثر کیا اور بائیکاٹ ختم ہوا۔
  • سحر و جادو خطرناک بنگالی ساحروں کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ آپ کو ذہنی اذیت دی جا سکے۔ ایمان کی طاقت کے سامنے جادو کے تمام حربے ناکام ہوئے۔

ان تمام نامساعد حالات کے باوجود مولانا گیلانی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہے ۔ ان کا توکل علی اللہ اس قدر مضبوط تھا کہ وہ ان مخالفین کے لیے بھی دعائے خیر فرماتے تھے جو انہیں ستاتے تھے۔ آپ کا یہ نظریہ تھا کہ یہ لوگ دین کی غلط فہمی کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں، لہٰذا یہ ہدایت کے مستحق ہیں۔

استغناء، سادگی اور مخلوق سے بے نیازی

​مولانا گیلانی کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو ان کا استغناء اور دنیوی جاہ و منصب سے بے نیازی تھی وہ دور جس میں علماء اور واعظین کا ایک بڑا طبقہ امراء کی خوشامد میں لگا رہتا تھا، مولانا نے اپنی خودداری اور فقر کو برقرار رکھا ۔ بارہمولہ کے بڑے بڑے رؤسا، جیسے ملہ خضر صاحب اور عبداللہ جو کاپرو صاحب، آپ کے عقیدت مند تھے، لیکن آپ نے کبھی ان کے اثر و رسوخ کو دین کے معاملے میں مداخلت کی اجازت نہ دی۔

​ایک مرتبہ بارہمولہ کے ایک متمول شخص نے ایک شرعی فیصلے میں اپنے حق میں تبدیلی کے بدلے خطیر رقم کی پیشکش کی، جسے مولانا نے پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ۔ آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ گھر کے اندر معمولی آرائش یا نئے برتنوں کی خریداری پر بھی اس ڈر سے ناراض ہو جاتے تھے کہ کہیں یہ دنیا کی محبت کا پیش خیمہ نہ بن جائے ۔ شیخ سعدیؒ کے بقول:

موحد کہ بر پائے ریزی زرش
چہ شمشیرِ ہندی نہی بر سرش

تربیتِ اولاد اور علمی وراثت

​مولانا گیلانی نے اپنی اولاد کی تربیت میں کبھی نرمی نہیں برتی۔ ان کا ماننا تھا کہ اولاد کو علم کی خاطر سختی اٹھانا سیکھنا چاہیے انہوں نے اپنے بیٹوں کو چھوٹی عمر میں ہی کشمیر سے دور یوپی (ٹنڈہیرہ) کے مدرسہ شمس العلوم میں بھیج دیا تاکہ وہ جفاکشی اور علم کی قدر سیکھ سکیں ۔

​ان کے بیٹے، پروفیسر حافظ سید عبدالرحمن گیلانی جو بعد میں دہلی یونیورسٹی میں شعبہ عربی کے صدر بنے، کی علمی کامیابیوں کے پیچھے ان کے والد کی کڑی نگرانی اور دعائیں شامل تھیں ۔ مولانا نے اپنی وفات کے قریب بھی بیٹوں کو واپس بلانے سے منع فرمایا، کیونکہ ان کے نزدیک دنیاوی عہدوں سے زیادہ علمِ دین کی اہمیت تھی۔

​پروفیسر سید عبدالرحمن گیلانی: ایک علمی جانشین

پروفیسر عبدالرحمن گیلانی نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے علم و تحقیق کے میدان میں نام پیدا کیا۔ ان کا پی ایچ ڈی مقالہ "علامہ انور شاہ کشمیری: عربی زبان و ادب میں ان کی خدمات” علمی حلقوں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان کی پوری زندگی اپنے والد کے اس قول کی عملی تصویر تھی کہ "میرے بچے اگر علمِ دین حاصل کر کے در در کی ٹھوکریں بھی کھائیں، تو بھی مجھے ان کے افسر بننے سے زیادہ یہ محبوب ہے” اس وقت جو ان کے علمی جانشین ہیں سید عبدالرحیم الحسنی اپنے والد بزرگوار کی طرح ہی توحید و سنت کے بنیادی کام پر سختی سے عمل پیرا ہیں ان کے کام کی نوعیت بھی ایسی ہی ہے کہ توحید و سنت عقائد و افکار اسلامی کی خوب آبیاری ہو اور باطل افکار و نظریات کا علمی رد ہو اس سلسلے میں وہ وادی کشمیر میں بالعموم اور ضلع بارہمولہ میں بالخصوص کافی سرگرم ہیں یوں اپنے والد کے علمی وارث کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں۔

​اتحادِ امت اور وسیع المشربی

مولانا گیلانی ایک کٹر متبعِ سنت ہونے کے باوجود اتحادِ امت کے زبردست داعی تھے ۔ انہوں نے بارہمولہ میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ تبلیغی جماعت اور جماعتِ اسلامی جیسے اداروں کے درمیان ان کی شخصیت ایک "پل” کی حیثیت رکھتی تھی ۔ بارہمولہ کی مسجد امیر شاہ (موجودہ بیت المکرم) ان کی حیات میں دونوں جماعتوں کا مشترکہ مرکز رہی، جہاں وہ فروعی اختلافات کو دعوتِ دین کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتے تھے۔

​آپ کے روابط میر واعظ خاندان کے اکابرین اور وادی کے دیگر جلیل القدر علماء سے بھی انتہائی گہرے اور احترام پر مبنی تھے آپ کی وسیع المشربی کا نتیجہ تھا کہ بارہمولہ میں مذہبی کشیدگی کی جگہ علمی مکالمے نے لے لی۔

​سماجی خدمات اور غریب پروری

مولانا کی شخصیت کا ایک اور درخشندہ پہلو ان کی بے کسوں اور حاجت مندوں پر شفقت تھی ۔ وہ خاموشی سے غریب بچیوں کے نکاح کے اخراجات برداشت کرتے تھے اور صاحبِ ثروت لوگوں کو ترغیب دے کر مفلوک الحال قرض داروں کے قرضے معاف کرواتے تھے آپ کا دسترخوان ہر وقت مسافروں اور مہمانوں کے لیے بچھا رہتا تھا۔ دور دراز علاقوں جیسے اوڑی، چوکی بل اور سری نگر سے آنے والے سائلین کبھی آپ کے در سے خالی نہ گئے۔

​آپ کی سخاوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال میں ایک دو مرتبہ آپ صرف ان بڑی بوڑھیوں کی دعوت فرماتے تھے جنہیں معاشرے میں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا تھا ۔ یہ ان کی انسانی ہمدردی اور اخلاقی بلندی کی روشن مثال تھی۔

تعلق مع اللہ اور عشقِ رسول ﷺ

مولانا کی تمام تر جدوجہد کی اصل بنیاد اللہ تعالیٰ سے ان کا مضبوط تعلق اور نبیِ آخر الزماںﷺ سے والہانہ عشق تھا وہ راتوں کو اٹھ کر اللہ کے حضور گریہ زاری کرنے والے عابد و زاہد انسان تھے ان کا یہ پختہ یقین تھا کہ ہر مشکل کا حل "دعائے نیم شبی” میں پوشیدہ ہے۔

​اتباعِ سنت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے نکاح کے موقع پر مروجہ رسومات کو ٹھکرا کر اسے انتہائی سادہ انداز میں خود گاڑی میں لے جا کر اس کے شوہر کے حوالے کیا، جس پر اس دور کے معاشرے میں لوگ دنگ رہ گئے ۔ ان کی پوری زندگی اتباعِ سنت کا عملی نمونہ تھی، اور اسی کی برکت تھی کہ ان کے حلقۂ اثر میں بدعات کا زور ٹوٹ گیا۔

آخری سفرِ حج اور وصال

​مولانا کا آخری سفرِ حج ان کی زندگی کے آخری عہد کی بندگی کا خلاصہ تھا ۔ مکہ مکرمہ میں مدرسہ صولتیہ کے ذمہ داران کی طرف سے شاہانہ میزبانی کی پیشکش کے باوجود، انہوں نے ایک مسکین اور اجنبی مسافر کی طرح حج کرنے کو ترجیح دی ان کا نظریہ تھا کہ اللہ کے گھر میں جس قدر عجز و انکسار اختیار کیا جائے، رحمتِ الہیٰ کے حصول کی امید اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے
​آپ کی وفات بارہمولہ کی تاریخ کا ایک المناک باب تھی آپ کی وصیت کے مطابق آپ کی تدفین مسجد توحید گنج کے قریب عمل میں آئی آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مخلص رفیق الحاج غلام نبی وانی صاحب نے رسالہ "راہِ نجات” کے ذریعے آپ کے ملفوظات اور تعلیمات کو محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

​تجزیاتی بصیرت: مولانا گیلانی کے مشن کے ہمہ گیر اثرات

مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانی کی زندگی کا علمی و تاریخی جائزہ لینے سے جو اہم نتائج حاصل ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
​عقیدہ و عمل کی یکسوئی: مولانا نے ثابت کیا کہ عقیدے کی درستی کے بغیر عمل کی عمارت بے بنیاد ہے۔ انہوں نے توحید کے خالص تصور کو عام کر کے کشمیری مسلمانوں کی فکری سمت درست کی ۔

​استقامت فی الدین: مخالفین کے ہتھکنڈوں کے سامنے نہ جھکنا اور توکل علی اللہ کو زادِ راہ بنانا ان کی تحریک کی کامیابی کا بنیادی راز تھا۔
​جامع شخصیت: آپ بیک وقت ایک مدرس، مبلغ، مصلح اور سماجی کارکن تھے۔ آپ کی شخصیت نے ثابت کیا کہ اسلام رہبانیت کا نہیں بلکہ سماجی خدمت اور فکری بیداری کا دین ہے۔
​تعلیمی انقلاب: بارہمولہ میں مدارس اور مکاتب کی بڑھتی ہوئی تعداد درحقیقت مولانا کی ان کاوشوں کا ثمر ہے جو انہوں نے نامساعد حالات میں شروع کی تھیں۔

آخری بات

مولانا سید عبدالولی شاہ گیلانی نارنتھلی کی شخصیت وادیِ کشمیر کی تاریخ کا وہ درخشندہ باب ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ اخلاصِ نیت اور عزمِ راسخ کے ساتھ ایک فردِ واحد بھی پورے معاشرے کے رخ کو بدل سکتا ہے ۔ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں—علمی پیاس، مجاہدانہ حق گوئی، درویشانہ سادگی اور اولاد کی کڑی تربیت—عصرِ حاضر کے مصلحین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی تحریک نے بارہمولہ کی سرزمین کو جس طرح توحید و سنت سے سیراب کیا، اس کے اثرات آج بھی پوری وادی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ الحاج غلام نبی وانی کی کاوش "راہِ نجات” درحقیقت اسی علمی و روحانی تسلسل کو برقرار رکھنے کی ایک کڑی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مولانا کے علمی ورثے اور ان کے دعوتی منہج پر مزید تحقیقی کام کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے فیض سے بھرپور مستفید ہو سکیں۔

​ بنیادی مآخذ:

  1. مفتی سید عبدالرحیم الحسنی
  2. راہ نجات داعی توحید نمبر

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ہم نے خالق کا حق ادا نہیں کیا

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

عالمی یومِ ویٹرنری:ویٹرنری خدمات، ایک خاموش مگر اہم کردار

01/05/2026
بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

بڑھتی مہنگائی اور گرتی امیدیں۔

01/05/2026
قرآن حکیم کی تعلیمات میں ہی انسانی مسائل کا حل

قرآن حکیم کی تعلیمات میں ہی انسانی مسائل کا حل

01/05/2026
وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

17/04/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

نشہ مُکت بھارت امید کی کرن

17/04/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

حضرتشیخ داؤد ریشی (المعروف بتہ مول) رحمتہ اللہ علیہ وادی میں یکساں مقبول ہیں

17/04/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »