حضرتشیخ داو ؤد ریشی (المعروف بتہ مول) رحمتہ اللہ علیہ کا شمارکشمیر کے بلند پایہ روحانی ،ریشی اور صوفیا سلسلے کے عظیم بزرگوں میں ہوتا ہیں۔آپ ؒ سلسلے رشی کے اہم ولی کامل تھے ۔آپؒکی زندگی خدمت خلق ان کی تابناک اور قابل عمل زندگی کا نمونہ تھی انہیں ولی کاملیوں کی بدولت وادی کشمیر کو دنیا میں ’پیروار کا لقب ملا ہے۔ اہل کشمیر حضرت شیخ داود ؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے ہوئے اُنہیں احتراماً ” بتہ مول“ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
حضر ت شیخ داقد( بتہ مول) رحمتہ اللہ علیہ اپنے تقویٰ، زہد اور روحا نیت کی وجہ سے باشندگانِ کشمیر میں یکساں مقبول تھے ۔آپؒ حصول معاش کےلئے کھیتی باڈی کرتے تھے اور خود ہل چلاتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ رشد ہدایت میں بھی مصروف ہوگئے۔حضرت شیخ داﺅ د ریشی المروف بتہ مول رحمتہ اللہ علیہ انسانیت کی خدمت اور مخلوق خدا کی خدمت کو عبادت قرار دیکر روحانیت کا درس بھی دیتی تھے۔ آپؒ نے انتہائی سادہ طرز زندگی کو اپنایااور انسانیت کی بے لوث خدمت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے ۔آپؒ انسانیت کی خدمت بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب تمام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیا۔حضرت شیخ داو ¿د ریشی (المعروف بتہ مول) ر حمتہ اللہ علیہ کا آستانہ عالیہ سرینگر کے علاقے بٹہ مالو میں واقع ہے۔آپؒ حصول معاش کےلئے کھیتی باڈی کرتے تھے ،اور خود ہل چلاتے تھے ،اور ۔آپ ؒ خود صرف سبزیاں نوش فرماتے تھے ۔ آپؒ کے دور میں قحط کے دوران لوگوں کی مدد کا واقعہ آپؒ کی سخاوت اور کرامت کی عکاسی کرتا ہے۔کیونکہ سخت قحط سالی میں جب لوگ بھوک سے پریشان تھے، آپؒ نے ایک بڑے برتن میں کھانا (سبزیاں وغیرہ) تیار کروایا، اور اللہ کے فضل سے بہت سے لوگ سیر ہو کر کھاتے رہے، یہ آپؒکی روحانیت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے مخلوقِ خدا کے لیے لنگر کا انتظام کیا ،اور یہ ایک کرامت تھی کہ اتنا بڑا برتن میںکھانا پکنے کے باوجود کبھی خالی نہیں ہوا ،اور لوگ سیر ہو کر جاتے رہے۔آپ ؒ اپنی سخاوت اور مخلوقِ خدا کی خدمت، خاص طور پر بھوکوں کو کھانا کھلانے کی وجہ سے آپ ؒ ”بتہ مول “ اس لقب سے مشہور ہوئے،اور آج اسی نسبت سے یہ علاقہ ”بتہ مول“ سے بٹہ مالو کے نام سے مشہور ہے۔
حضرت شیخ داﺅد” بتہ مول“ حمتہ اللہ علیہ دنیا سے رخصیت ہوئے تو تب سے وہاں کے لوگ عرس بتہ مولؒ پر صرف سبزیوں کے پکوان تیار کر کے مہمانوں کے ساتھ ساتھ خود بھی کھاتے ہیں۔ تقریباً چارسو برس ہوچکے ہے تب سے سلسلہ جاری ہے،اور حضرت شیخ داﺅد بتہ مول حمتہ اللہ علیہ کشمیر کی تاریخ بزرگان پر ایک ناقابل فراموش شخصیت کا نام ہے ۔
حضرت شیخ داﺅد حمتہ اللہ علیہ بتہ مول کے متعلق تاریخی کشمیر اعظمی جس کے مورخ خواجہ محمد اعظم دیدہ مری ؒہے اسی میں سے کچھ اقتباسات اس مضمون کے ذریعہ نذر قارئین ۔” پل دیار کے جوار میں ودیارن ونی کا رہنے والا تھا۔ مرد توانا تھا۔ تنہ سے نمک لا کر فروخت کرتا تھا۔ جب اس کے دل میں خدا طلبی پیدا ہوئی تو خواجہ یوسف کانجو کی خدمت یںارادت کے ساتھ پہنچا۔ خواجہ یوسف ایک پرہیز گار اور تقویٰ شعار انسان تھے اور ہو مزار بلہ کواة میں مدفون ہیں۔ ان کی وساطت سے وہ الدریشہ بابائے ہجراری کے دل آگاہ خدمت میں پہنچا۔ یہ بابا ارشاد دستگاہ حضرت ہروی بابا کے خلیفہ تھے۔ یہاں اس نے ان سے تربیت کے حقیقی معنی پائے۔ اگرچہ وہ ناخواندہ اور ظاہری علم سے بے بہرہ تھا تاہم وہ صاحب باطن ہو گیا علم لدنی سے بہرہ ور ہوااور معتبر حالا ت کا مالک ٹھہرا۔ اس نے صاحب احوال اصحاب اکٹھے کیے اور کرامات کونیہ کے اظہار کے باعث اسے عوام میں بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ یوں وہ مرجع خاص و عام ہوا۔ اس کے باوجود وہ حدیث مبارکہ اطلبو الزرق من خبایاسی الارض (زمین کے اندر سے اپنا رزق تلاش کرو) کے مطابق وہ زراعت سے اپنی روزی کا سامان کرتا اور کھیت سے گوڈی وغیرہ بذات خود کرتا۔ راقم حروف نے اپنے مرشد کی زبان سے اور آنجناب حضرت ولایت مرتبت لوزہ باباے پروانہ سے جو خلیفہ خاص تھے سنا کہ ہمارے پیر کشف و کراما ت میں شیخ حمزہ قدس سرہ سے کمتر نہ تھے‘ لیکن کسی نے بھی ان کے احوال قلم بند نہ کیے۔“
حضرت شیخ داﺅد ؒکے دربا میں ایک آدمی نے ایک جن کے خلاف شکوہ کیا اور ان سے مدد چاہی۔ انہوںنے اس جن کو اپنی خدمت میں طلب فرمایا اورنرم و گرم نصیحت کی۔ پھر اس بیمار آدمی سے فرمایا کہ اسی آدمی نے تجھ پر تصرف کر رکھا تھا اب اسنے چھوڑ دیا ہے۔ وہ بڑی تیزی سے اس کے پیچھے بھاگا تاکہ اسے پکڑ لے۔ جب دروازے پر پہنچا تو اسے کچھ بھی نظر نہ آیا، یہ دونوں واقعات ان کے روضہ کے ایوان میں پیش آئے۔ نہ مالو جیو کے تصرفات اور خوارق عادات کے بارے میں لوگوں کی زبانوں پر بے حد و حساب حکایات ہیں۔
حضرت شیخ داود ر بتہ مول حمتہ اللہ علیہ کے وصالِ باکمال کے زائد از چار صدیوں بعد آج بھی کشمیر کے اس روحانی بزرگ کی شان و شوکت کا یہ عالم ہے کہ کہ روزانہ عقیدت مندوں اور زائر ین کی ایک بڑی تعداد حاضری دے کر فیض حاصل کرتی ہے اور آدبن و تعظیم اپنا سر خم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
حضرت شیخ داود ؒکا آستانہ کشمیریوں کے لیے ایک اہم روحانی مرکز ہے جہاں لوگ عقیدت کے ساتھ آتے ہیں، اور مردِ خدا کے ظاہر و باطن کمالات سے آراستہ ہو کر حضرت شیخ داود ؒ کے خدمت میں اپنانذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
حضرت شیخ داﺅد بتہ مول حمتہ اللہ علیہ کے رحلت فرمانے کے بعد ملا محسن خوشنویس نے ان کی تاریخ وفات لکھنے کا خیال کیا،اُنہیں حضرتؒ خواب میں نظر آئے اور بولے فلانے تو کس لئے درد سری کاشکار ہے میری تاریخ وفات ”ع غ“ ہے یعنی 1070ھ اور ہر برس 23 شوال کے روز عرس مبارک ہوتا ہے۔
حضرت علمدار کشمیر شیخ العالمؒ کے اشعار پر اختتام کرتا ہوں۔ترجمہ ۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیارکر ے ، اور اُن سے محبت رکھ لے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر وقت قبلہ روہوتے ہیں ،یعنی ہرقدم خدائے کعبہ کے حکم کے تحت اُٹھاتے ہیں ۔ نیک لوگوں کی صحبت دِل کو نورانی اور بُروں کی صحبت دِل کو سیاہ بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس بندہ اور راہ حق کے عظیم مجاہد ؒ کے فیوض حیات بخش کو تاقیام قیامت جاری رکھا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان نیک لوگوں کی صحبت میں رکھے اور توحیدو سنت کی پیرروکاربنائے ۔ آمین





