چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام والے علاقہ پڈوچیری کے نتائج میں مغری بنگال کے نتائج نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ آسام میں جہاں توقع کی جا رہی تھی کہ بھاجپا اقتدار پر براجمان رہے گی، اور وہی ہوا۔ ہمنتا بسوا سرما کی فرقہ واریت پر مبنی سیاست پھر کام کر گئی اور بھاجپا نے 123 نشستوں میں سے 82 نشستوں پر جیت درج کی جبکہ کانگریس صرف 19 سیٹیں جیت سکی جن میں 18 مسلم امیدوار ہیں۔کیرالا میں کانگریس کی سربراہی والے یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے جیت درج کی وہاں اتحاد نے 102 سیٹیں حاصل کیں جن میں کانگریس نے اکیلے 63 سیٹیں جیتی ہیں. تامل ناڈو میں اداکار جوزف وجے کی پارٹی ٹی وی کے نے سب کو حیران کرتے ہوئے 223 میں سے 108 سیٹیں جیتی اور کانگریس سے سرکار بنانے کے لیے انکی بات چیت جاری ہے۔ جبکہ کانگریس نے تامل ناڈو میں پانچ سیٹیں جیتی ہیں۔ اسی طرح پڈوچیری میں پھر سے این ڈی اے کی سرکار ہی بنے گی۔ ان چار انتخابات کے نتائج توقع شائد بہت سوں نے کی تھی لیکن جو نتائج مغربی بنگال سے آئے ہیں ان سے خود بھاجپا بھی حیرت میں ہی ہوگی۔ بنگال میں کل 294 نشستیں ہیں اور 292 کے نتائج سامنے آئے اور بھاجپا نے ان.میں 207 سیٹیں حاصل کی ہیں وہیں ترنمول کانگریس محض 80 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ گزشتہ انتخابات میں بھاجپا نے 77 سیٹیں جیتی تھیں۔ ادھر کانگریس کہیں پر بھی نظر نہیں آرہی ہے۔
مغربی بنگال کے نتائج کو ممتا بینرجی نے قبول کرنے سے انکار کیا اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔
موجودہ وزیر اعلی ممتا بینرجی کا آج (7 مئی 2026ء) پانچ سالہ مدت کار مکمل ہو رہی ہے لیکن دوسری طرف سے ممتا نے استعفیٰ نہیں سونپا ہے۔ انہوں نے بھاجپا پر الزام لگایا کہ سو سیٹوں پر الیکشن چوری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گی، اور انتخابات کو ”غیر منصفانہ“قرار دیا ہے۔
لوک سبھا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ” آسام اور بنگال ایسے واضح کیس ہیں جہاں الیکشن کمیشن کی مدد سے بی جے پی نے انتخابات چرائے۔“
انہوں نے کہا کہ، ہم ممتا جی سے اتفاق کرتے ہیں۔ بنگال میں 100 سے زیادہ نشستیں چرائی گئیں۔
عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجرول نے لکھا کہ ”جس دہلی اور مغربی بنگال کو بھارتیہ جنتا پارٹی ‘مودی ویو’کے عروج پر بھی نہیں جیت سکی — 2015 میں دہلی میں اور 2016 میں بنگال میں صرف 3-3 سیٹیں حاصل ہوئیں —اسی دہلی اور بنگال کو بی جے پی نے اُس وقت جیت لیا جب نریندر مودی کی مقبولیت پورے ملک میں گرتی ہوئی بتائی جا رہی تھی… یہ کیسے ممکن ہوا؟“
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے لکھا کہ ”بھارت کو کبھی آزاد اور منصفانہ انتخابات کے عالمی نمونے کے طور پر سراہا جاتا تھا، خاص طور پر جب ٹی۔ این۔ سیشن نے الیکشن کمیشن آف انڈیا ،کو جمہوریت کا ایک بے خوف محافظ بنا دیا تھا۔انہوں نے مزید لکھا کہ آج وہی ادارہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ مرکزی ایجنسیاں بھی اس میں معاونت کر رہی ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک زوال ہے۔ ہم شاید "وشو گرو” نہ بن سکے، مگر لگتا ہے کہ ہم نے انتخابی جوڑ توڑ کا ہنر ضرور سیکھ لیا ہے۔ مغربی بنگال اس تشویشناک حقیقت کی تازہ مثال ہے۔
دوسری طرف سے مغربی بنگال میں کرائے گئے ایس آئی آر (سپیشل انٹنسیو رویژن ) کو بھی ترنمول کی ہار کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ریاست میں 90 لاکھ سے زائد ووٹوں کو حذف کر لیا گیا۔اور ان ووٹوں کو دو زمروں کو میں حذف کیا گیا، جن میں پہلا ”اے ایس ڈی ڈی“ یعنی ایبسنٹ ، شفٹ، ڈیڈ اور ڈبلیکیٹ جبکہ اسی طرح دوسرے میں Under Adjudication زمرے کے ووٹروں کو رکھا گیا ہے جن کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہےاور انکی تعداد 27 لاکھ ہے ۔ یہ ووٹرز ایسے ہیں جو مغربی بنگال میں رہ رہے ہیں لیکن ان کی شہریت پر شکوک ہیں۔ان ووٹرز نے اپنے نام بحال کرانے کے لیے ٹریبونلز میں اپیلیں دائر کیں، تاہم انتخابات اس وقت ہوئے جب ان میں سے 99 فیصد سے زائد درخواستیں ابھی زیر التوا تھیں۔
تفصیلات کے مطابق اسمبلی کے تقریباً 150 حلقوں میں حذف کیے گئے ووٹرز کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ رہی۔ ان حلقوں میں بھاجپا نے نمایاں برتری حاصل کرتے ہوئے تقریباً 100 نشستیں جیت لیں، جبکہ ترنمول کانگریس 48 نشستوں تک محدود رہی اور کانگریس صرف 2 نشستیں حاصل کر سکی۔ اور 2021 کے انتخابات میں انہی حلقوں میں ٹی ایم سی کو واضح برتری حاصل تھی۔
وہیں ان انتخابات میں بھاجپا نے دو کروڑ 90 لاکھ ووٹ حاصل کیے اور ترنمول نے 2 کروڑ 60 لاکھ ووٹ، یعنی فرق 30 لاکھ ووٹوں کا ہے اور 27 لاکھ ووٹ اس وقت زیر سماعت ہیں۔ وہی دوسری طرف سے کانگریس کی جانب سے ترنمول کیساتھ اتحاد نہ کرنا بھی کہیں نہ کہیں اس ہار کی وجہ بنا کیونکہ کہ ایک طرف سے جہاں کانگریس نے محض دو سیٹیں حاصل کیں لیکن ووٹ قریب انیس لاکھ حاصل کیے اور متعدد سیٹوں پر کانگریس کے امیدواروں نے تیسرے نمبر پر رہ کر ترنمول ووٹ کاٹے اور کچھ پر ترنمول امیدوار نے کانگریس امیدوار کے ووٹ کاٹے۔
الیکشن کے بعد پر تشدد جھڑپ پانچ ہلاک
مغربی بنگال انتخابی نتائج کے بعد کئی شہروں میں بھاجپا اور ترنمول کے ورکرز کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔جن میں بھاجپا کے ممکنہ وزیر اعلی امیدوار سویندہ ادھیکاری کے ذاتی معاون چندرناتھ راتھ کو مغربی بنگال کے مدھیام گرام علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وہیں اب تک پولیس نے سینکڑوں کیس درج کیے ہیں اور سینکڑوں افراد کو تشدد بھڑکانے کے الزام میں گرفتار بھی کر لیا ہے. پولیس سربراہ بنگال سدھ ناتھ گپتا نے بتایا کہ نتائج کے بعد ہونے والے تشدد کے سلسلے میں اب تک 200 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 433 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ 1100 افراد کو احتیاطی حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے بعد ریاست میں سخت کارروائی جاری ہے اور 500 سی اے پی ایف کمپنیاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات ہیں۔







