جموں و کشمیر انتظامیہ نے جنوبی کشمیر میں واقع معروف تعلیمی ادارے’’ جامعہ سراج العلوم‘‘کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت غیر قانونی ادارہ قرار دیا ہے۔ صوبائی کمشنر کشمیرکی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کالعدم جماعتِ اسلامی کے ساتھ ادارے کے مبینہ روابط اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی شوپیاں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی جانب سے 24 مارچ 2026 کو پیش کردہ ایک رپورٹ کے بعد عمل میں آئی ہے۔
صوبائی کمشنر کے حکم نامے کے مطابق ریکارڈ کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ادارہ بظاہر ایک دینی تعلیمی ادارے کے طور پر کام کر رہا تھا، لیکن یہ سنگین قانونی، انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں میں گھرا ہوا ہے۔ ان بے ضابطگیوں میں زمین کا مشکوک حصول، مجاز حکام کے پاس لازمی رجسٹریشن کا فقدان اور قانونی نگرانی سے بچنے کی دانستہ کوششیں شامل ہیں۔حکم نامے میں ’معتبر معلومات‘ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس سے اس ادارے کے جماعت اسلامی کے ساتھ مسلسل اور خفیہ روابط کی نشاندہی کی گئی ہے، جو کہ 2019 میں حکومت ہند کی طرف سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم ہے۔ مزید برآں، ادارے کے مالیاتی لین دین میں شفافیت کی کمی اور فنڈ کے قابل اعتراض بندوبست نے بھی خدشات کو ہوا دی ہے۔
سیکورٹی ایجنسیوں کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اس ادارے نے ’’بنیاد پرستی‘‘ کو فروغ دیا، جس میں کئی سابق طلباء انتہا پسندانہ سرگرمیوں اور قومی سلامتی کے خلاف کارروائیوں میں ملوث پائے گئے۔ اس سے ادارے کا غلط استعمال ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے لیے خطرناک ہے۔ یو اے پی اے کی دفعہ 8(1) کا اطلاق کرتے ہوئے انتظامیہ نے کیمپس کو سیل کرنے اور مالی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔
حکام نے کہا کہ یہ کارروائی روک تھام نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے ادارے کے غلط استعمال کو روکنا تھا۔
ادارے کا پس منظر
جامعہ سراج العلوم جنوبی کشمیر کے بڑے دینی و عصری تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جس کا قیام 1998 میں عمل میں آیا۔یہ ادارہ نہ صرف مذہبی تعلیم بلکہ جدید نصاب کے ساتھ ہزاروں طلبہ کو تعلیم فراہم کرتا رہا ہے اور علاقے میں ایک اہم تعلیمی مرکز سمجھا جاتا ہے۔شوپیاں کے امام صاحب علاقے کے گاؤں ہلو میں واقع جامعہ سراج العلوم 1998 میں ایک سوسائٹی کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور اس نے 2000 میں باضابطہ کام کرنا شروع کیا ۔واضح رہے اس ادارے نے ماضی میں جماعت اسلامی کے ساتھ کسی بھی قسم کے روابط سے یکسر انکار کردیا ہے۔سینکڑوں طلبہ و اساتذہ اس سے وابستہ رہے ہیں۔
پابندی کی قانونی بنیاد
انتظامیہ نے یہ اقدام UAPA کی دفعہ 8(1) کے تحت کیا، جس کے ذریعے کسی بھی جگہ یا ادارے کو’’غیر قانونی سرگرمیوں‘‘ کے شبہ میں سیل کیا جا سکتا ہے۔ حکام نے اپنے حکم نامے میں درج کیا کہ:
- ادارے کے مبینہ طور پر کالعدم تنظیم (جماعت اسلامی)سے روابط تھے۔
- مالی بے ضابطگیوں اور فنڈز کے استعمال پر سوالات موجود تھے۔
- اور ادارہ ایسا ماحول پیدا کر رہا تھا جو’’ریڈیکلائزیشن‘‘ کے لیے سازگار ہو سکتا ہے ۔
اس فیصلے کے بعد انتظامیہ کو ادارے کی عمارت سیل کرنے اور اثاثے ضبط کرنے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
وسیع تر پس منظر
امور کشمیر پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اس اقدام کوایک بڑے سکیورٹی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔یاد رہےجماعت اسلامی جموں و کشمیر پر 2019 میں پانچ سالوں کے لیےپابندی عائد کردی گئی تھی، جسے بعد میں مزید بڑھا دیا گیا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ جماعت اسلامی پر شدت پسندی اور علیحدگی پسندی سے متعلق سرگرمیوں کے الزامات رہے ہیں، اسی لیے اس سے جڑے اداروں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ردِعمل اور مذمت
اس فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔بعض سیاسی رہنماؤں نے اس اقدام کو’’ناانصافی‘‘ قرار دیا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ’’ایکس ‘‘پر سراج العلوم ادارہ کی ویڈیو اپ لوڈ کرکے لکھا کہ ’’ہر دن جموںو کشمیر کی شناخت اور وقار پر ہونے والے زہریلے حملوں پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ ادارہ ایسے غریب اور نادار لوگوں کے لئے تعلیم کی مشعل جلائے ہوئے تھا ، جو مہنگے اداروں میں داخلہ نہیں لے پاتے۔ وطن دشمنی کےکسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ایسے اداروں کو کالعدم قرار دینا گہرے عناد اور بُرے عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
سابق وزیر اور ’اپنی پارٹی‘ کے رہنما الطاف بخاری نے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے’’ ایکس‘‘ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ’ ’اس ادارے کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے یہاں سے ایسے نوجوان فارغ نہیں ہوئے جنھوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ اگر کچھ مثالیں ہوں بھی، تو وہ اتفاقی ہوں گی۔ تعلیمی اداروں کو اس طرح بند کر دینا لوگوں میں بیزاری کے جذبات پیدا کر سکتا ہے۔ شبہات کو دُور کرنے کے سکول کی نئی انتظامیہ تشکیل دی جاسکتی ہے تاکہ سکول کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے، تاکہ بچوں کا مستقبل اور اساتذہ کا روزگار متاثر نہ ہو۔‘‘
میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق اور ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے بھی دبے الفاظوں میں انتظامیہ کی اس کاروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا، جبکہ کچھ حلقوں نے اسے کشمیر میں تعلیمی اور سماجی اداروں کے خلاف وسیع کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل جماعت اسلامی سے تعلق کے شبہ میں ’’ فلاح عام بورڈ‘‘سے وابستہ اسکولوں کو بھی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم قومی سلامتی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
فی الحال ادارے کو سیل کر دیا گیا ہے، جس کے بعدادارے میں زیر تعلیم طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔وہیںمعاملہ اب سیاسی، تعلیمی اور قانونی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جامعہ سراج العلوم پر پابندی صرف ایک ادارے کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیر میں تعلیم، سکیورٹی اور سیاست کے پیچیدہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔






