30 اپریل 2026 کا دن جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ کیونکہ پہلی بار جموں کشمیر کو براہ راست ٹرین دونوں دارالحکومتوں، سری نگر اور جموں کے درمیان براہ راست ٹرین سروس چلی۔ جس کا باضابطہ افتتاح مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کیا۔ جموں کے توی سٹیشن سے انہوں نے ریل کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اراکین پارلیمان اور ریلوے حکام موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے کہا کہ وہ اشونی ویشنو اور مرکزی سرکار کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے جموں کو کشمیر کے ساتھ ریل کے زریعے جوڑا۔
ریلوے حکام کے مطابق وندے بھارت ٹرین، جو پہلے 8 کوچز پر مشتمل تھی، اب مسافروں کے زبردست ردعمل کے پیش نظر 20 کوچز کے ساتھ چلائی جائے گی تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوچز کی تعداد میں اضافہ اور جموں توی تک توسیع سے مسافروں، سیاحوں اور یاتریوں کو بڑی سہولت ملے گی کیونکہ اب نشستیں آسانی سے دستیاب ہوں گی اور سفر مزید آرام دہ ہو جائے گا۔یہ ٹرین 2 مئی سے باقاعدہ طور پر چلنا شروع ہوگی اور روزانہ دو جوڑی سروسز فراہم کرے گی، جو تقریباً 266 کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گی۔ اس حوالے سے ریلوے حکام کی جانب سے شیڈول بھی جاری کر دیا گیاہے۔پہلی ٹرین کی روانگی جموں توی سے صبح 6:20 بجے ہوگی اور اس دوران یہ شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا، ریاسی، بانہال سٹیشنز پر رکے اور سرینگر ریلوے سٹیشن پر گیارہ بجے کے آس پاس پہنچے گی۔ جبکہ سرینگر سے دوپہر 2:00 بجے اس ٹرین کی واپسی ہو گی اور جموں توی ریلوے سٹیشن یہ شام سات بجے کے آس پاس پہنچے گی۔ یہ سروس منگل کو چھوڑ کر ہفتے میں 6 دن چلے گی۔ جبکہ اسی طرح سے دوسری سروس ٹرین کی روانگی سری نگر سے صبح 8:00 بجے ہوگی اور ٹرین کے لیے بانہال اور کٹرا میں اسٹاپ رکھے گئے ہیں اور یہ ترین توی ریلوے سٹیشن قریب پانچ گھنٹے کے بعد پہنچے گی۔
جبکہ اس ٹرین کی جموں توی سے دوپہر 1:20 بجے ہوگی اور سری نگر شام 6:00 بجے یہ پہنچے گی۔ یہ سروس بدھ کے بغیر ہفتے میں 6 دن چلے گی۔حکام کے مطابق ان دو سروسز سے مسافروں کو صبح اور دوپہر دونوں اوقات میں سفر کی سہولت میسر ہوگی، جس سے سفر کی منصوبہ بندی میں آسانی پیدا ہوگی۔اس توسیع کے بعد اب مسافر جموں توی ریلوے اسٹیشن سے براہ راست ٹرین میں سوار ہو کر کٹرا اور وہاں سے سری نگر تک بغیر کسی تبدیلی کے سفر کر سکیں گے۔ اس سے پہلے مسافروں کو کٹرا تک پہنچنے کے لیے ٹرین یا سڑک کے ذریعے الگ انتظام کرنا پڑتا تھا۔
حکام نے مزید کہا کہ سردیوں میں جب جموں–سری نگر قومی شاہراہ برفباری کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے، تو یہ ریلوے لائن ایک لائف لائن ثابت ہوگی۔ وندے بھارت ٹرین کو منفی 20 ڈگری سیلسیس تک کے درجہ حرارت میں چلنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید ہیٹنگ سسٹم اور ہر موسم میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی شامل ہے۔
اتنا ہی نہیں بلکہ کشمیر کی معیشت، جس کا دارومدار پشمینہ شال، اخروٹ کی لکڑی کی مصنوعات، ہاتھ سے بُنے قالین اور زعفران پر ہے، اس ریلوے رابطے سے مزید مستحکم ہوگی کیونکہ تاجروں اور کاریگروں کو نقل و حمل میں آسانی اور کم لاگت میسر آئے گی۔
کشمیر اور جموں کے درمیان پہلے ہی یہ ٹرین کیوں نہیں چلی؟؟.
وادی کشمیر میں سب سے پہلے ریل سروس سال 2008 میں کانگریس دور اقتدار میں بانہال سے بارہمولہ تک ریلوے سروس کو شروع کیا گیا تھا۔اسکے بعد اب سرینگر کو براہ راست دلی سے ریل کے زریعے جوڑنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے 6 جون 2025 کواُدھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریلوے لنک کا افتتاح کیا گیا۔اس 272 کلومیٹر طویل ریلوے پروجیکٹ پر تقریباً 44 ہزار کروڑ روپے لاگت آئی، گزشتہ 25 برسوں میں مکمل کیا گیا ہے۔ جس کا حصہ ریاسی ضلع میں دریائے چناب پر دنیا کا سب سے اونچا اسٹیل آرچ ریل پل بھی شامل ہے۔تاہم یہ تقریباً آٹھ ماہ تک صرف کٹرا–سری نگر سیکشن تک محدود رہی۔ اگر چہ اس دوران کئی مرتبہ براہ راست سرینگر سے جموں تک ریل چلانے کے اعلان بھی کیے گیے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے ملتوی کیا گیا۔ دوسری جانب اننت ناگ اور بڈگام کے رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ٹرین کے اسٹاپ ان اضلاع میں بھی رکھے جائیں، جبکہ بارہمولہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سروس کو وہاں تک بڑھایا جائے تاکہ مسافروں کو سری نگر آنے کی اضافی مشقت نہ اٹھانی پڑے۔






