جموں و کشمیر کی بدلتی ہوئی سیاست میں معراج ملک کا نام حالیہ مہینوں میں غیر معمولی طور پر خبروں میں رہا۔ ان کی گرفتاری، حراست، اور پھر رہائی نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک وسیع بحث کو جنم دیا۔
معراج ملک کا تعلق عام آدمی پارٹی (AAP) سے ہے، جو جموں و کشمیر میں اپنی سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ نوجوان قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں اور مقامی مسائل پر کھل کر بات کرنے کے باعث جلد ہی عوامی توجہ حاصل کر چکے تھے۔
ان کی تقریریں اور بیانات اکثر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید پر مبنی ہوتے تھے، جس سے وہ حامیوں کے ساتھ ساتھ ناقدین کی نظر میں بھی آ گئے۔
ستمبر 2025 میں معراج ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا۔یاد رہے پی ایس اےقانون حکام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی فرد کو بغیر باقاعدہ مقدمہ چلائے ایک مخصوص مدت تک قید رکھ سکتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ قدم امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا، جبکہ ناقدین نے اسے سیاسی دباؤ کا حربہ قرار دیا۔
معراج ملک کی قانونی ٹیم نے اس حراست کو عدالت میں چیلنج کیا۔ سماعت کے دوران ان کی نظر بندی کے جواز پر سوالات اٹھائے گئے،شواہد کی نوعیت پر بحث ہوئی اور بنیادی حقوق کے حوالے سے دلائل دیے گئے۔
بالآخر عدالت نے نظر بندی کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی بنیادیں قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔
رہائی کے بعد معراج ملک کے حامیوں نے اسے ’’باعزت رہائی‘‘ قرار دیا۔عوامی مقامات پر استقبال، سوشل میڈیا پر حمایت، اور سیاسی بیانات نے اس واقعے کو مزید نمایاں کر دیا۔تاہم، کچھ تجزیہ کار اسے صرف ایک قانونی عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، نہ کہ مکمل طور پر سیاسی فتح۔
جیل سے رہائی کے بعد، معراج ملک نے سیاست کے ساتھ قانونی مقدمات کے الجھاؤ پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ سیاسی شمولیت کے بغیر کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔انہوں نے مزید عزم ظاہر کیا کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنی جدوجہد بلا تعطل جاری رکھیں گے اور کہا کہ یہ جدوجہد سیاست کے بجائے خیالات سے محرک ہے۔
واضح رہےمعراج ملک ڈوڈہ اسمبلی حلقے سے منتخب رکن اسمبلی ہے اور انہوں نے عام آدمی پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ عآپ کے جموں و کشمیر یونٹ کے سربراہ، معراج ملک، کو 8 ستمبر 2025 کو عوامی امن کے خلاف سرگرمیوں کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں ضلع مجسٹریٹ، ڈوڈہ، نے ان پر پی ایس اے عائد کرکے انہیں کٹھوعہ ضلع جیل منتقل کر دیا تھا۔ ڈوڈہ پولیس نے ایک ڈوزیئر تیار کر کے ڈوڈہ انتظامیہ کو ارسال کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’’ایم ایل اے نے ڈاکٹروں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی، نوجوانوں کو بھڑکایا اور ضلع میں ریلیف تقسیم کے دوران رکاوٹیں حائل کیں۔‘‘
معراج ملک کو پہلے ڈاک بنگلوو ڈوڈہ میں حراست میں رکھا گیا جہاں (ان کے ساتھ کسی قسم کی) ملاقات پر پابندی تھی، جس کے بعد باضابطہ طور ان پر پی ایس اے عائد کرکےکٹھوعہ جیل بھیج دیا گیا۔
معراج ملک کی گرفتاری اور اب رہائی کا واقعہ اپوزیشن جماعتوں کو ایک مضبوط نکتہ فراہم کرتا ہے کہ سخت قوانین کا استعمال سیاسی مقاصد کے لیے ہو سکتا ہے۔حکومت کو اب یہ وضاحت دینی پڑ سکتی ہے کہ ایسے قوانین کب اور کیوں استعمال کیے جاتے ہیں۔عدالت کی مداخلت نے یہ واضح کیا کہ انتظامی اختیارات پر عدالتی نگرانی موجود ہے، جو جمہوری نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ساتھ ہی یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں نوجوان قیادت اور عوامی سیاست تیزی سے اہمیت حاصل کر رہی ہے۔
معراج ملک کی گرفتاری اور رہائی ایک سادہ قانونی کیس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ واقعہ جموں و کشمیر میں قانون، سیاست اور عوامی رائے کے پیچیدہ تعلق کو اُجاگر کرتا ہے۔یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ شاید یہ ایک نئے سیاسی باب کی شروعات ہے۔






