امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 8 مئی: جموں و کشمیر کی وزیرِ صحت و تعلیم نے کہا ہے کہ جموں خطے میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد کشمیر کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن کارروائیاں اور بلڈوزر صرف وادی کشمیر میں چلائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے ایک قومی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بطور وزیرِ صحت وہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہیں کہ جموں میں منشیات کے عادی افراد زیادہ ہیں، مگر کشمیر میں لوگوں کے مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں اور جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔
سکینہ ایتو نے لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خاندانوں کی جائیدادیں ضبط کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں۔
انہوں نے کہا، “اگر کوئی بچہ منشیات کا عادی ہے تو ہمیں اس کی بازآبادکاری کرنی چاہیے۔ اگر جائیداد والد کے نام پر ہے تو اسے کیوں گرایا جا رہا ہے؟ یہ غلط ہے اور اس سے امتیازی سلوک کا تاثر ملتا ہے۔”
نیشنل کانفرنس کی رہنما نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ لوگوں کے گھروں کو تباہ کرکے ان کی مشکلات میں اضافہ کرنا چاہیے۔





