گاندربل، 10 مئی:
وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے اتوار کو پی ڈی پی سربراہ کی جانب سے نیشنل کانفرنس حکومت پر لگائے گئے “بیک ڈور تقرریوں” کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
گاندربل میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے پی ڈی پی قیادت کو چیلنج کیا کہ وہ مبینہ غیر قانونی تقرریوں کی ایک بھی مثال پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ ایک منظم انتظامی طریقہ کار ہے جو سرکاری اسکیموں کے تحت انجام دیا جاتا ہے اور اسے بیک ڈور بھرتیوں کے ساتھ جوڑنا غلط ہے۔
انہوں نے کہا، “بیک ڈور تقرریوں اور آؤٹ سورسنگ میں واضح فرق ہے۔ آؤٹ سورسنگ باقاعدہ سرکاری اسکیموں کے تحت کی جاتی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ اس طرح کے بیانات کا مقصد جموں و کشمیر میں جاری ترقیاتی کاموں سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔
ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق دعوؤں کو بھی انہوں نے بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے خزانچی ہیں اور کسی وزارتی عہدے پر فائز نہیں ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ عوامی بیانات دینے سے پہلے حقائق کی تصدیق کر لیا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی بار بار الزامات لگا کر حکومت کی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتخابی کامیابی کے بعد گاندربل میں بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں تیزی آئی ہے۔
صحت کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ضلع اسپتال گاندربل میں نئی مشینیں نصب کی جائیں گی، جس سے نجی مراکز میں تین سے چار ہزار روپے میں ہونے والے ٹیسٹ اب عوام کو صرف 500 سے 800 روپے میں دستیاب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات متوازن اور پائیدار ترقی کے وسیع منصوبے کا حصہ ہیں اور زیر التوا منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کے لیے سینئر وزراء کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، صحت عامہ اور نوجوانوں کی فلاح پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے گاندربل میں مسلسل زمینی دورے بھی کیے جا رہے ہیں۔





