امت نیوز ڈیسک//
سرینگر : جموں و کشمیر محکمہ صحت کی جانب سے دو ہفتوں کے دوران ایک ہی ڈینٹل سرجن کے تبادلے اور تعیناتی کی خاطر 5احکامات جاری کرنے پر متعلقہ محکمے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان احکامات کے اجرا کئے جانے سے ‘جانبداری’ یا انتظامیہ اور خاص کر محکمہ صحت پر کئی سوالات کھڑا کئے جارہے ہیں جبکہ تبادلے اور تعیناتی نے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
محکمہ صحت کے افسران ایک ہی ڈینٹل سرجن کی تعیناتی کے لیے دو ہفتوں کے اندر پانچ الگ الگ احکامات جاری کرنے کے بعد "عوامی جانچ” کے دائرے میں آئے ہیں۔ بار بار تبادلے، ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی( پی ڈی پی )کی صدر محبوبہ مفتی نے موجودہ حکومت پر افسران کے تبادلے کے لیے رشوت لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بار بار کی تبادلوں کی وجہ سےانتظامی الجھن، جانبداری کا عنصر پایا جاتا ہے۔” ایسے میں اب ایک ہی ڈینٹل سرجن کی تعیناتی کے پانچ احکامات جاری ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں افسران کے بار بار تبادلوں کا مسلہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔
یہ تنازعہ ایک ڈینٹل سرجن ڈاکٹر عثمینہ شفیع کے ‘ٹرانسفر’ سے متعلق ہے جنہیں 29 اپریل 2026 کو چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) بارہمولہ کے جاری کردہ حکم نامے کے ذریعے بلاک سوپور ٹرانسفر کیا گیا تھا۔4 مئی کو سوپور کے بلاک میڈیکل آفیسر کے دفتر میں رپورٹ کرنے کے بعد ڈاکٹر عثمینہ شفیع کو اگلے ہی دن پی ایچ سی لڈورہ اپنے فرائض انجام دینےکا حکم جاری کیا گیا اور حکم کے مطابق پی ایچ سی لڈورہ کے ڈینٹل سرجن ڈاکٹر شبیر احمد کو بھی بونیار بھیج دیا گیا۔
تاہم 48 گھنٹوں کے اندر محکمہ صحت نے حکم میں جزوی طور پر ترمیم کی۔ 7 مئی کو ڈاکٹر عثمینہ شفیع کو لڈورہ کے بجائے پی ایچ سی ڈورو میں تعیناتی کے احکامات جاری کئے گئے جبکہ پی ایچ سی ڈورو کے ڈینٹل سرجن ڈاکٹر محمد ساجد کھوڑو کو بونیار ٹرانسفر کر دیا گیا۔جاری کردہ سرکاری آرڈرز سے پتہ چلتا ہے کہ اس عرصے کے دوران متعدد ترمیمات اور تازہ آرڈرز جاری ہوتے رہے، اور معاملے کی نزاکت کو پھانپتے ہوئے بالآخر اعلیٰ سطح پر مداخلت کی ضرورت پڑی۔
اس صورتحال کے پیچ تیزی سے ردوبدل نے مبینہ طور پر کم از کم چار پرائمری ہیلتھ سینٹر(پی ایچ سیز ) کے کام کاج پر اثر ڈالا، وہیں مریضوں کی دیکھ بھال کو بھی بری طرح متاثر کی۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ بار بار تبدیلیوں نے عملے میں الجھن پیدا کی اور تبادلوں کے پیچھے شفافیت اور معقولیت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا۔ ایسے میں،واقع کی غیر معمولی ترتیب کے باوجود متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔
دو ہفتوں کے دوران ایک ہی ڈاکٹر کے تبادلے اور تعیناتی کے اس سنگین اور سنجیدہ معاملے کے حوالے سے ای ٹی وی بھارت کے نمائندے نے ڈائریکٹر ہیلتھ کشمیر سے بات کرنا چاہی تاہم انہوں نےفون اٹھانا گنوارہ نہیں سمجھا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ "حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کےایک وزیر نے ایک افسر کے تبادلے اور تعیناتی کے عوض 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔”تاہم حکمران جماعت جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے ان الزامات کی تردید کی اور محبوبہ مفتی کو چیلنج کیا کہ وہ یا تو وزیر کا نام بتائیں یا انسداد بدعنوانی بیورو میں شکایت درج کریں۔




