امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ: جنوبی کشمیر کے معروف سیاحتی مقام پہلگام کے لیہن دجن جنگلاتی علاقے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شدید بارش اور گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 60 سے زائد بھیڑ ہلاک ہو گئے، جس سے مقامی چرواہا برادری کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق فوت ہونے والے مویشی علاقے میں چراگاہوں پر موجود تھے کہ اسی دوران ان پر آسمانی بجلی آ گری، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جانور موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور متاثرہ خاندان شدید صدمے اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ یہ مویشی رفیق احمد گوگڈا، بشیر احمد گوگڈا، نذیر احمد گوگڈا، پرویز احمد گوگڈا کے تھے جو دس روز قبل جموں سے یہاں آئے تھے۔
سابق سرپنچ فاروق احمد چوپان نے کہا کہ مال مویشی ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کی ہلاکت نے کئی خاندانوں کو معاشی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نقصان صرف جانوروں کی ہلاکت تک محدود نہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے روزگار اور مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
ان کے سمیت چرواہا برادری اور مقامی باشندوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم متاثرہ علاقے کا دورہ کرے اور حقیقی نقصان کا تخمینہ لگا کر متاثرین کو مناسب معاوضہ اور امدادی پیکیج فراہم کیا جائے۔
حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی متاثرہ مقام کا معائنہ کرکے رپورٹ تیار کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ممکنہ سرکاری امداد فراہم کی جا سکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کشمیر کے پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں چرواہے اور ان کے مال مویشی شدید موسمی تغیرات اور قدرتی آفات کے سامنے انتہائی غیر محفوظ ہیں۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں شدید بارشوں، گرج چمک اور دیگر موسمی واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف انسانی زندگی بلکہ مالداری سے وابستہ طبقے کا روزگار بھی خطرات سے دوچار ہو رہا ہے۔



