ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ سے بھی زیادہ پیچیدہ معاملہ اس وقت جموں کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کا نظر آرہا ہے کیوں کہ امریکہ اور ایران تنازعہ کا حل تو کبھی نکل ہی آئے گا لیکن جموں کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے شرط ‘موزوں وقت’ کی ہے اور وہ موزوں وقت کب ہوگا اس کا سب کو انتظار ہے۔ مرکزی سرکار نے 5 اگست 2019 کو اختیارات کے معاملے میں طاقتور ریاست جموں کشمیر، جس کا اپنا آئین تھا، الگ جھنڈا اور یہاں تک کہ تمام قوانین بھی یہاں لاگو نہیں ہوتے تھے، کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور اختیارات کو کم ترین سطح پر لاکر مرکزی زیر انتظام والے علاقہ میں تبدیل کیا۔ لداخ کو بھی یوٹی بنایا گیا۔ شروع میں اگرچہ لداخ کے لوگ فیصلے سے خوش تھے لیکن اب وہ بھی اختیارات کی کمی ہونے میں ناراض ہی نظر آرہے ہیں اور مزید اختیارات کے لیے مرکز سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ خیر، لداخ کا الگ موضوع ہے۔ اگر جموں کشمیر کی بات کریں تو 11 دسمبر 2023ء کو تب کے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بینچ، جس میں جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریا کانت(موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا)شامل تھے، نے مرکزی حکومت کے 5 اگست، 2019 کے فیصلے کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا۔ اپنے فیصلے میں تب سپریم کورٹ کورٹ نے مرکز کو ریاستی درجہ بحال کرنے کی ہدایت دینے کے ساتھ ساتھ ستمبر 2024ءسے قبل اسمبلی انتخابات کرانے کی ہدایت دی تھی۔ اگر چہ سپریم کورٹ نے انتخابات کے لیے وقت مقرر کیا تھا لیکن ریاستی درجے کے لیے کوئی بھی وقت متعین نہیں کیا گیا اور اسی کا نتیجہ کہ سنہ 2020ء سےآج تک وزیر اعظم سے لے کر وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال ہو گا۔ اسی ریاستی درجے کے حوالے سے وزیر اعلی عمر عبداللہ کا حالیہ ‘کلاوڈ برسٹ’والا بیان اور ایل جی منوج سنہا کا ریاستی درجے کو لے کر بیان سامنے آیا ہے۔
مرکزی سرکار کے لیڈران کے بیانات کا دفاع کرتے ہوئے ایل جی نے کہا کہ میں وزیر اعظم اور وزیر اعلان اعلان کر چکے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حد بندی کے بعد اسمبلی انتخابات اور پھر مناسب وقت پر ریاستی درجے کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔ اس پر جموں کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آخر وہ موزوں وقت کیا ہے جس کا ہمیں پچھلے ڈیڑھ سے انتظار کروایا جا رہا ہے؟۔ این سی ترجمان تنویر صادق نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا مرکز این سی سرکار کے پانچ سال مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہے یا پھر جب بھاجپا جموں کشمیر میں سرکار میں آئے گی تبھی ریاستی درجہ بحال ہوگا۔ جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ ”جموں و کشمیر کے لوگ دوہری حکمرانی کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں“۔ قرہ نے مزید کہا، ”مرکزی حکومت جموں و کشمیر کو وعدے کے مطابق ریاستی درجہ بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، کیونکہ بی جے پی اسمبلی انتخابات میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل نہیں کر سکی۔“
دوسری طرف سے پچھلے قریب ایک ہفتے سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے تیور قدرے سخت نظر آئے۔ رواں ماہ ہی انہوں ٹنگمرگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یقین مانیں، میرا دل چاہتا ہے کہ میں بادل پھٹنے کی طرح برس پڑوں۔“انہوں نے ساتھ میں کہا کہ عید کے بعد ایک عوامی اجتماع میں وہ کھل کر اپنی بات رکھیں گے۔
وہیں ایک انٹرویو میں عمر عبداللہ نے کہا، ”مناسب وقت کو ناپنے کا پیمانہ کیا ہے؟ کم از کم اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ مناسب وقت کب آئے گا اور اسے کس طرح ناپا جائے گا، تو ہم اسی سمت میں کام کریں گے۔“مزید عمر عبداللہ نے سوال اٹھایا، ”کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کو یہاں حکومت بنانے کی اجازت نہیں ملی؟ کیا اسی لیے جموں و کشمیر کے عوام کو سزا دی جا رہی ہے؟“
عید کے بعد کیا ہو سکتا ہے ؟؟
عمر عبداللہ کی طرف سے عید کے بعد بڑا بیان دینے کا اشارہ اور اس سے قبل یہ سخت لہجہ ساتھ میں وزیر داخلہ سے ملاقات کے حوالے سے چہ مہ گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ کیا واقعی مرکز عیدکے بعد ریاستی درجہ بحال کرے گی یا نہیں؟
مرکز میں موجود بھاجپا والی سرکار کب کون فیصلہ لے اور کب کیا کرے اسی کو علم نہیں ہوتا۔ کچھ رپورٹس یہ اشارے دے رہی ہیں کہ شائد ریاستی درجہ بحال ہو لیکن پولیس اور لاء اینڈ آرڈر مرکز کے ہی اختیار میں رہے گا۔ دوسری طرف سے عمر عبداللہ کا عید کے بعد پیغام کی بات کریں تو اس ڈیڑھ سال کے دور اقتدار میں نیشنل کانفرنس کی 50 سے زائد اراکین والی سرکار بے اختیار نظر آئی جبکہ بھاجپا کے 27 اراکین زیادہ بااختیار نظر آئے۔عمر عبداللہ کی سرکار کے خلاف جہاں لوگوں میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے وہیں اپوزیشن جماعتیں سرکار پر کوئی بھی تنقید کا موقع نہیں ضائع کرتی۔ حال ہی میں جموں کے سدھرا میں گوجر طبقے سے تعلق رکھنے والے 32 کنبوں کے گھروں کو غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے مسمار کیا گیا۔ اس دوران جموں کشمیر سرکار نے انہدامی کاروائی سے جہاں لاتعلقی کا اظہار کیا وہیں دوسری طرف سے وزیر جنگلات جاوید رانا نے کارروائی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری طرف سے اسی معاملے پر نائب وزیر اعلی سریندر چودھری نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایس افسران ہمارے ماتحت نہیں ہیں۔ وہیں سرکار نے اس معاملے میں تحقیقات کے لیے دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔لیکن سوال یہاں پر کھڑا ہو تا ہے اگرآئی اے ایس افسران سرکار کے ماتحت نہیں تو کارروائی کس کے خلاف اب ہوگی۔ اب عید کے بعد ہی واضح ہو گا کہ خود کو بے اختیار کہنے والی این سی سرکار کیا کوئی بڑا فیصلہ لیتی ہے یا نہیں؟؟



