• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, مئی ۲۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
حراستی ہلاکت کیس میں ہائی کورٹ نے کیا ضلع مجسٹریٹ کا آرڈر مسترد، نئے احکامات جاری

‘زچگی رخصت پر خواتین ملازمین کو سزا نہیں دی جا سکتی’، جے کے بینک کو ہائی کورٹ کی پھٹکار

by امت ڈیسک
21/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے "ماں بننے” کو ایک آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمت کی جگہ پر اس بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے جموں کشمیر بینک کی وہ اپیلیں خارج کر دیں جن میں خواتین ملازمین کی زچگی رخصت کو ان کی مستقلی اور تنخواہی فوائد میں تاخیر کی وجہ بنایا گیا تھا۔

جموں میں چیف جسٹس ارون پلئی اور جسٹس رجنیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے 15 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ بینک نے ماں بننے کے دوران اپنی خواتین ملازمین کا ساتھ دینے کے بجائے ان کے خلاف "ادارتی طاقت” استعمال کی۔ عدالت نے کہا کہ : "ملک بھر میں وسیع نیٹ ورک کے حامل اس بڑے بینک نے افسوس کے ساتھ اپنی خواتین ملازمین کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کیا۔”

بینچ نے مزید کہا کہ "خواتین کے ‘ماں بننے’ کا احترام کرنے اور انہیں سہولت فراہم کرنے کے بجائے بینک نے ان کے ساتھی ملازمین کے مقابلے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا، جو قانوناً ناقابل قبول ہے۔”

عدالت نے اس سے پہلے سنگل بینچ کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا جو چار خواتین ملازمین، جن میں تنو گپتا بھی شامل ہیں، کے حق میں دیا گیا تھا۔ ان خواتین کی دو سالہ کنٹریکچول سروس کا حساب لگاتے وقت زچگی رخصت کے دن شامل نہیں کیے گئے تھے، جس سے ان کی مستقلی میں تاخیر ہوئی۔

تنازع اُس وقت پیدا ہوا جب بینک نے زچگی رخصت کو ملازمت میں وقفہ قرار دیا۔ اس وجہ سے خواتین ملازمین کی مستقلی 31 دسمبر 2020 کے بعد ہوئی اور وہ نئی تنخواہی شرحوں اور دیگر مالی فوائد سے محروم رہ گئیں، جو مقررہ تاریخ سے پہلے مستقل ہونے والے ملازمین کو ملنے تھے۔

عدالت نے کہا کہ اس طرح خواتین کو ماں بننے کی سزا دی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ "منظور شدہ زچگی رخصت کو ملازمت میں وقفہ قرار دے کر فوائد سے محروم کرنا امتیازی سلوک ہے۔” بینچ نے یہ بھی کہا کہ بڑے اداروں اور ملازمین، خاص طور پر خواتین، کے درمیان اختیارات کا توازن برابر نہیں ہوتا۔”

عدالت نے یہ بھی کہا کہ "بچے کی پیدائش کا درد قربانیوں سے بھرپور ایک طویل داستان کا صرف پہلا باب ہوتا ہے۔” بینچ نے مزید کہا کہ "زچگی فوائد سے انکار نہ صرف خواتین کے اس دوہرے بوجھ کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ یہ آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی بھی ہے کہ ان خواتین کو برابر کے مواقع دیے جائیں جو نئی نسل کو جنم دیتی ہیں۔”

عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 42 کے ساتھ ساتھ زچگی حقوق اور صنفی انصاف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔ سپریم کورٹ کے سابق مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے بینچ نے کہا کہ "بچے کی پیدائش کو ملازمت کے تناظر میں زندگی کا ایک فطری حصہ سمجھا جانا چاہیے۔”

عدالت نے بینک کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ خواتین ملازمین نے زچگی رخصت کی شرائط قبول کی تھیں، اس لیے بعد میں انہیں چیلنج نہیں کر سکتیں۔ بینچ نے کہا، "اگرچہ خاموشی اختیار کرنا بعض صورتوں میں قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن اسے بنیادی حقوق ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں آئینی خلاف ورزی واضح ہو وہاں قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے گی۔”

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

پہلگام میں آسمانی بجلی گرنے سے 60 سے زائد مویشی ہلاک

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

پہلگام  میں آسمانی بجلی گرنے سے 60 سے زائد مویشی ہلاک

پہلگام میں آسمانی بجلی گرنے سے 60 سے زائد مویشی ہلاک

21/05/2026
بڈگام میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

بڈگام میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

21/05/2026
سجاد لون کا بی جے پی پر سنگین الزام: “ایس ایم وی ڈی یونیورسٹی تنازعے میں میڈیکل سائنس کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش“

سجاد غنی لون کو والد کی برسی پر نظر بند کرنے کا الزام

21/05/2026
گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے، اس سے ہجومی تشدد اور نفرت کی سیاست ختم ہوگی: ارشد مدنی

گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے، اس سے ہجومی تشدد اور نفرت کی سیاست ختم ہوگی: ارشد مدنی

20/05/2026
محبوبہ مفتی نے کیا آر ایس ایس لیڈر کے پاکستان سے بات چیت ریمارکس کا خیرمقدم

جموں و کشمیر کے محکموں میں مسلم افسران کی کمی: محبوبہ مفتی کا دعوی

20/05/2026
حکومت نے جموں انہدامی کارروائی کی تحقیقات کا دیا حکم

حکومت نے جموں انہدامی کارروائی کی تحقیقات کا دیا حکم

20/05/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »