امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے "ماں بننے” کو ایک آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمت کی جگہ پر اس بنیاد پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے جموں کشمیر بینک کی وہ اپیلیں خارج کر دیں جن میں خواتین ملازمین کی زچگی رخصت کو ان کی مستقلی اور تنخواہی فوائد میں تاخیر کی وجہ بنایا گیا تھا۔
جموں میں چیف جسٹس ارون پلئی اور جسٹس رجنیش اوسوال پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے 15 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ بینک نے ماں بننے کے دوران اپنی خواتین ملازمین کا ساتھ دینے کے بجائے ان کے خلاف "ادارتی طاقت” استعمال کی۔ عدالت نے کہا کہ : "ملک بھر میں وسیع نیٹ ورک کے حامل اس بڑے بینک نے افسوس کے ساتھ اپنی خواتین ملازمین کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کیا۔”
بینچ نے مزید کہا کہ "خواتین کے ‘ماں بننے’ کا احترام کرنے اور انہیں سہولت فراہم کرنے کے بجائے بینک نے ان کے ساتھی ملازمین کے مقابلے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا، جو قانوناً ناقابل قبول ہے۔”
عدالت نے اس سے پہلے سنگل بینچ کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا جو چار خواتین ملازمین، جن میں تنو گپتا بھی شامل ہیں، کے حق میں دیا گیا تھا۔ ان خواتین کی دو سالہ کنٹریکچول سروس کا حساب لگاتے وقت زچگی رخصت کے دن شامل نہیں کیے گئے تھے، جس سے ان کی مستقلی میں تاخیر ہوئی۔
تنازع اُس وقت پیدا ہوا جب بینک نے زچگی رخصت کو ملازمت میں وقفہ قرار دیا۔ اس وجہ سے خواتین ملازمین کی مستقلی 31 دسمبر 2020 کے بعد ہوئی اور وہ نئی تنخواہی شرحوں اور دیگر مالی فوائد سے محروم رہ گئیں، جو مقررہ تاریخ سے پہلے مستقل ہونے والے ملازمین کو ملنے تھے۔
عدالت نے کہا کہ اس طرح خواتین کو ماں بننے کی سزا دی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ "منظور شدہ زچگی رخصت کو ملازمت میں وقفہ قرار دے کر فوائد سے محروم کرنا امتیازی سلوک ہے۔” بینچ نے یہ بھی کہا کہ بڑے اداروں اور ملازمین، خاص طور پر خواتین، کے درمیان اختیارات کا توازن برابر نہیں ہوتا۔”
عدالت نے یہ بھی کہا کہ "بچے کی پیدائش کا درد قربانیوں سے بھرپور ایک طویل داستان کا صرف پہلا باب ہوتا ہے۔” بینچ نے مزید کہا کہ "زچگی فوائد سے انکار نہ صرف خواتین کے اس دوہرے بوجھ کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ یہ آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی بھی ہے کہ ان خواتین کو برابر کے مواقع دیے جائیں جو نئی نسل کو جنم دیتی ہیں۔”
عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 42 کے ساتھ ساتھ زچگی حقوق اور صنفی انصاف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔ سپریم کورٹ کے سابق مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے بینچ نے کہا کہ "بچے کی پیدائش کو ملازمت کے تناظر میں زندگی کا ایک فطری حصہ سمجھا جانا چاہیے۔”
عدالت نے بینک کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ خواتین ملازمین نے زچگی رخصت کی شرائط قبول کی تھیں، اس لیے بعد میں انہیں چیلنج نہیں کر سکتیں۔ بینچ نے کہا، "اگرچہ خاموشی اختیار کرنا بعض صورتوں میں قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن اسے بنیادی حقوق ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں آئینی خلاف ورزی واضح ہو وہاں قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے گی۔”



