امت نیوز ڈیسک //
ڈوڈہ : ڈوڈہ سے رکن اسمبلی معراج ملک کو بدھ کے روز میونسپل کمیٹی (ایم سی) ڈوڈہ کے ڈیلی ویجرز کی جانب سے شدید مخالفت کا اُس وقت سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے ایگزیکٹو آفیسر (ای او) کے دفتر کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جہاں ڈیلی ویجرز احتجاج کر رہے تھے۔
ایم ایل اے کی بار بار کوششوں کے باوجود احتجاج کر رہے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے عارضی ملازمین نے گیٹ نہیں کھولا اور انہیں واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ معراج ملک نے گزشتہ رات میونسپل کمیٹی کے مستقل صفائی ملازمین کو شہر کے مختلف علاقوں سے کچرا اٹھانے کی ہدایت دی تھی۔
گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے یومیہ اجرت والے صفائی کرمچاری اپنی مستقلی کے مطالبے کو لے کر ہڑتال پر ہیں۔ ہڑتال کے دوران انہوں نے شہر کی سڑکوں، گلیوں اور کوچوں میں کچرا ڈال دیا تھا، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ شہریوں نے حالات معمول پر لانے کے لیے ایم ایل اے سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ جس پر معراج ملک نے صفائی مہم کی نگرانی کی اور رات کے وقت صفائی کا عمل جاری رکھا۔
گزشتہ رات کی کارروائی کے بعد آج ڈیلی ویجرز نے میونسپل کمیٹی دفتر کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور معراج ملک کا پتلا نذر آتش کیا۔ بعض احتجاجی عارضی ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات کی حمایت کرنے کے بجائے معراج ملک نے ان کی ہڑتال کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔
ڈیلی ویجرز کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے معراج ملک نے میڈیا سے کہا کہ وہ صفائی کرمچاریوں کی مستقلی کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، لیکن پورے شہر کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا: "ضلع ہیڈکوارٹر کو صاف رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور صفائی کارکنوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ جو لوگ شہر سے کچرا اٹھانے کی مخالفت کرتے ہیں، میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے لوگوں کے گھروں کے باہر کچرا پھینکیں۔”
معراج ملک نے صفائی کرمچاریوں پر الزام عائد کیا کہ انہیں نیشنل کانفرنس (این سی) کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ وزیر اعلیٰ اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ملازمین کی مستقلی کے معاملے پر فیصلہ بھی انہیں ہی کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا: "میں ہر جائز مطالبے کے ساتھ کھڑا ہوں، لیکن کسی کو بھی حالات کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دوں گا۔”






