امت نیوز ڈیسک //
بانڈی پورہ، 25 جون : اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے جمعرات کو جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کی مہم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم عوامی مسئلہ ہے جسے سیاسی نعرے بازی تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔
بانڈی پورہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بخاری نے نیشنل کانفرنس کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "ریاستی درجہ کوئی بریانی تقسیم کرنے کا عمل نہیں ہے” اور نہ ہی اسے یکطرفہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کا ایک جائز مطالبہ ہے، جسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
اپنی پارٹی سربراہ نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا کہ وہ سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق تنازع سمیت اہم عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بخاری نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کا معاملہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے درمیان سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کے مستقبل اور روزگار سے جڑا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں کے خدشات دور کیے جائیں اور بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا، "اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ لوگ نہیں جان پائیں گے کہ کس کی تقرری ہو رہی ہے اور کس بنیاد پر ہو رہی ہے، تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا، بخاری نے کہا کہ یہ مطالبہ برسوں سے اٹھایا جا رہا ہے اور اسے انتخابی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس سیاسی مقاصد کے لیے اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ توجہ بے روزگاری اور گورننس سے متعلق مسائل کے حل پر مرکوز ہونی چاہیے۔
بخاری نے کہا کہ عوامی اہمیت کے معاملات سیاسی ڈرامے بازی کے بجائے اجتماعی مشاورت اور وسیع تر اتفاقِ رائے کے متقاضی ہیں۔






