امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 26 جون: میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے یومِ عاشورہ کے موقع پر جامع مسجد سری نگر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحۂ کربلا صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ حق، صبر، عدل اور قربانی کا ایسا ابدی سبق ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ جنگ یا تصادم کے خواہاں نہیں تھے بلکہ اختلافات کو سچائی، اسلامی اصولوں اور مخلصانہ گفتگو کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ تاہم جب ظلم و جبر کو ترجیح دی گئی تو تاریخ نے ظالموں کو ناکام اور امام حسینؓ اور ان کے باوفا ساتھیوں کو حق، استقامت اور قربانی کی لازوال علامت بنا دیا۔
میرواعظ نے کہا کہ کربلا کا پیغام کسی ایک زمانے یا خطے تک محدود نہیں بلکہ ہر اس معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے جہاں طاقت کو عقل پر، اور تصادم کو مکالمے پر ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے، مگر آخرکار سچائی، انصاف اور اخلاقی جرات ہی کامیاب ہوتی ہے۔
عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جنگیں اور فوجی طاقت دیرپا حل نہیں دے سکتیں۔ پائیدار امن کے لیے مکالمہ، مذاکرات اور مدبرانہ قیادت ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان اور قطر سمیت ان علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو بھی سراہا جو مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی غرض سے کی جا رہی ہیں۔
میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ سبق جنوبی ایشیا، خصوصاً بھارت اور پاکستان کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق خطے کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح سیاسی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد کے خاتمے، امن اور بامعنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1990 میں اپنے والد شہید میرواعظ مولوی محمد فاروق کی شہادت کے بعد انہوں نے انصاف، امن اور مکالمے کی اسی روایت کو آگے بڑھانے کا عہد کیا، اور گزشتہ 36 برسوں سے مختلف حالات اور مشکلات کے باوجود اسی اصول پر قائم ہیں۔






