امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 2 جولائی: جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا پرامن حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس لیے کسی کو بھی مذاکرات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "دوست بدلے جا سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں۔” انہوں نے کہا کہ واجپائی کا یہ نظریہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر بھارت–پاکستان مذاکرات کی بات آر ایس ایس کی جانب سے کی جائے تو کوئی اعتراض نہیں کرتا، لیکن جب جموں و کشمیر کے رہنما یہی بات کرتے ہیں تو اسے غیر ضروری طور پر متنازع بنا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام زیرِ التوا مسائل کا حل بات چیت ہی میں پوشیدہ ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سول سوسائٹی کے متعدد ارکان نے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں، سفارتی اور عوامی روابط بحال کیے جائیں اور تمام مسائل کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔






