• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جولائی ۳, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
گریز: ترقی کی دوڑ میں کہیں ہم اپنی جنت نہ کھو دیں

گریز: ترقی کی دوڑ میں کہیں ہم اپنی جنت نہ کھو دیں

by امت ڈیسک
03/07/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

شیخ فرحت

گریز محض ایک سیاحتی مقام نہیں، یہ ایک احساس ہے، ایک طرزِ زندگی ہے، ایک ایسی دنیا ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے دل میں گھر کر جاتی ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑ، سبزہ زار میدان، نیلگوں پانیوں والے دریا، لکڑی کے روایتی گھر اور سادہ دل، مہمان نواز لوگ — یہ سب مل کر گریز کو وہ پہچان دیتے ہیں جو دنیا کے بہت کم علاقوں کے حصے میں آئی ہے۔ شاید اسی لیے جو شخص ایک بار گریز آتا ہے، وہ یہاں کی خوبصورتی کو صرف اپنی یادوں میں نہیں بلکہ اپنے دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔

مگر آج گریز ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہمیں صرف ترقی کے بارے میں نہیں بلکہ اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنے ماحول کے مستقبل کے بارے میں بھی فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ترقی کے نام پر اس جنت کو کنکریٹ کے جنگل میں بدل دیں گے، یا ایسا راستہ اختیار کریں گے جہاں ترقی اور قدرت ایک ساتھ چل سکیں؟

گزشتہ چند برسوں میں گریز میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں اور تجارتی عمارتوں کی تعمیر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یقیناً سیاحت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے، مقامی نوجوانوں کے لیے امید کی نئی راہیں کھولتی ہے اور معیشت کو مضبوط بناتی ہے۔ لیکن اگر تعمیرات بغیر منصوبہ بندی، ماحولیاتی تقاضوں اور سائنسی اصولوں کو مدنظر رکھے بغیر جاری رہیں تو یہی ترقی مستقبل میں گریز کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

گریز کا ماحولیاتی نظام نہایت نازک ہے۔ یہاں کی زمین محدود ہے، قدرتی وسائل بھی بے شمار نہیں، اور سب سے بڑھ کر یہی قدرتی حسن اس وادی کی اصل دولت ہے۔ بڑے بڑے ہوٹل اور بے ہنگم تعمیرات نہ صرف زمین پر دباؤ بڑھاتے ہیں بلکہ پانی کے وسائل، کچرے کے انتظام اور سیوریج جیسے مسائل کو بھی جنم دیتے ہیں۔ یوں رفتہ رفتہ وہ قدرتی توازن متاثر ہونے لگتا ہے جس نے صدیوں سے گریز کی خوبصورتی کو برقرار رکھا ہے۔

دنیا کے کئی خوبصورت پہاڑی علاقوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جہاں غیر منصوبہ بند تعمیرات نے چند ہی دہائیوں میں ان علاقوں کی اصل شناخت بدل کر رکھ دی۔ گریز کو ایسے انجام سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ حکومت، مقامی انتظامیہ اور عوام مل کر ایک واضح اور سائنسی تعمیراتی پالیسی مرتب کریں۔ ہر نئی تعمیر سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے، زرعی زمینوں اور چراگاہوں کو محفوظ رکھا جائے اور تعمیرات کو مخصوص علاقوں تک محدود کیا جائے۔ گریز کی خوبصورتی اس کے کھلے میدانوں، سرسبز ڈھلوانوں اور قدرتی مناظر میں ہے، بلند و بالا عمارتوں میں نہیں۔

شاید گریز کے لیے سب سے موزوں ماڈل بڑے ہوٹلوں کے بجائے ہوم اسٹے کلچر کا فروغ ہے۔ جب کوئی سیاح کسی مقامی گھر میں قیام کرتا ہے تو وہ صرف ایک کمرہ کرائے پر نہیں لیتا بلکہ گریز کی ثقافت، زبان، روایات، کھانوں اور مہمان نوازی کو بھی قریب سے محسوس کرتا ہے۔ دوسری جانب مقامی خاندانوں کو براہِ راست معاشی فائدہ پہنچتا ہے اور سیاحت کے ثمرات چند سرمایہ کاروں تک محدود رہنے کے بجائے پورے علاقے میں تقسیم ہوتے ہیں۔

سیاحت سے حاصل ہونے والی ترقی اور خوشحالی کا فائدہ بھی گریز کے ہر علاقے اور ہر برادری تک پہنچنا چاہیے۔ پائیدار اور منصفانہ ترقی کا یہی اصل تصور ہے۔

ایک اور حقیقت جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ یہ ہے کہ گریز ایک ہائی سیزمک زون میں واقع ہے جہاں زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ایسے حساس علاقے میں بلند و بالا ہوٹل اور کثیر منزلہ عمارتیں تعمیر کرنا نہ صرف ماحول بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تعمیرات کی اونچائی کو محدود کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر عمارتوں کو دو منزلوں تک محدود رکھا جائے اور انہیں زلزلہ مزاحم معیارات کے مطابق تعمیر کیا جائے تو کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں جانی نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

بدقسمتی سے مقامی سطح پر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر تعمیراتی قوانین پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ کہیں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور کہیں اختیارات کے ناجائز استعمال یا رشوت ستانی کے ذریعے تعمیراتی اجازت نامے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ گریز کے مستقبل اور اس کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تعمیراتی اجازت ناموں کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور ان عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں جو ذاتی مفادات کی خاطر گریز کے نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، چاہے وہ کوئی بااثر شخص ہو، سرمایہ کار ہو یا سرکاری اہلکار۔

ترقی ضروری ہے، روزگار ضروری ہے اور سیاحت بھی ضروری ہے، لیکن ترقی کا مطلب صرف زیادہ سے زیادہ عمارتیں کھڑی کرنا نہیں ہوتا۔ حقیقی ترقی وہ ہے جو لوگوں کو روزگار دے، سیاحوں کو سہولیات فراہم کرے، مقامی ثقافت کو زندہ رکھے اور قدرتی ماحول کو محفوظ بھی بنائے۔

گریز ہمارے بزرگوں کی میراث ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی امانت بھی۔ اگر ہم نے آج دانشمندی اور دور اندیشی سے فیصلے نہ کیے تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں صرف تصویروں میں وہ گریز دیکھ سکیں جسے ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے دلوں میں محسوس کر رہے ہیں۔

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ کیا ہم گریز کو ایک اور بے ہنگم پہاڑی قصبے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا ایک ایسا نمونہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ترقی اور قدرت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے چل سکیں؟

امید یہی ہے کہ ہم اس جنت کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے، کیونکہ گریز کی اصل طاقت اس کے پہاڑوں، دریاؤں اور عمارتوں میں نہیں بلکہ اس کی روح، اس کی ثقافت اور اس کے لوگوں میں پوشیدہ ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جوا آسان دولت کا خطرناک فریب

Next Post

این سی اپوزیشن کو احتجاج میں شامل کرنے پر کیوں مجبور؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

قومی پولیو حفاظتی ٹیکہ کاری دن: ایک صحت مند مستقبل کی تعمیر

قومی پولیو حفاظتی ٹیکہ کاری دن: ایک صحت مند مستقبل کی تعمیر

29/06/2026
مناظرہ بازیاں اور علماءِ سوء:کشمیر کس موڑ پر؟

مناظرہ بازیاں اور علماءِ سوء:کشمیر کس موڑ پر؟

26/06/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

روایتی نصاب بمقابلہ جدید نصاب: انتخاب جدید نصاب کا

26/06/2026

"100 دن، ایک مشن: نشہ مُکت جموں و کشمیر کی جانب

19/06/2026
کشمیر کے قدرتی وسائل کی حفاظت :حکومت کی ذمہ داری، عوامی کردار اور ترقی کا متوازن تصور

کشمیر کے قدرتی وسائل کی حفاظت :حکومت کی ذمہ داری، عوامی کردار اور ترقی کا متوازن تصور

12/06/2026
کشمیر میں جی حضوری کا چلن :میرٹ، سیاست اور اعزازات کا بدلتا منظرنامہ

کشمیر میں جی حضوری کا چلن :میرٹ، سیاست اور اعزازات کا بدلتا منظرنامہ

05/06/2026
Next Post
دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

این سی اپوزیشن کو احتجاج میں شامل کرنے پر کیوں مجبور؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »