رضوان سلطان
جموں کشمیر میں برسر اقتدار نیشنل کانفرنس کی سرکار کی جانب سے 3 جولائی کو داچھی گام نیشنل پارک میں ہوئی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے مونسون اجلاس کے شروع ہونے کے پہلے ہی روز جنتر منتر یا پھر کسی دوسری موزوں جگہ پر ریاستی درجے کی بحالی کو لے کر ایک روز کے لیے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ تاہم اس احتجاج کے لیے جموں کشمیر کی کسی بھی دوسری جماعت یہاں تک کہ اتحادی کانگریس کو بھی میٹنگ میں نہ ہی احتجاج میں شرکت کے لیے دعوت دی گئی تھی۔ لیکن اب این سی نے فیصلہ لیا ہے کہ انڈیا بلاک کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ جموں کشمیر کی سیاسی جماعتوں (سوائے این ڈی اے بلاک)کو احتجاج میں شرکت کے لیےباضابطہ دعوت دی جائے گی۔ اس حوالے سے این سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ جموں کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو خط لکھ کر احتجاج کے لیے مدعو کریں گے۔ تاہم این سی نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا جب وادی کی دیگراپوزیشن جماعتوں کی طرف سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ انہیں احتجاج میں مدعو نہیں کیا گیا اور این سی اس معاملے میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے قبل جب فاروق عبداللہ سے پوچھا گیا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا تو تب فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ جسے آنا ہوگا خود آیے گا کسی کو وہ تھالی لے کر نہیں جائیں گے۔ لیکن اب این سی نے بظاہر تنقید کے بعد یوٹرن لیتے ہوئے تمام پارٹیوں کو جمع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ دوسری طرف سے این سی کے ہی باغی رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی وہاں جائیں گے اور دفعہ 370 کی بحالی کی مانگ کریں گے۔ احتجاج کے دوران یہ بھی دیکھنا دلچسپ اب رہے گا کہ اگر دیگر سیاسی جماعتیں احتجاج میں شرکت کرتی ہیں آیا وہ این سی کی ہی ریاستی درجے کی مانگ پر اکتفا کرتی ہیں یا پھر اپنا الگ ایجنڈا پیش کریں گے۔
دوسری طرف سے رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے اور یہ تقریباً تین ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم اجلاس کی حتمی تاریخ اور دورانیے کی منظوری ابھی کابینہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے نہیں دی ہے۔روایتی طور پر مانسون اور سرمائی اجلاس چار ہفتوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان میں تقریباً 20 نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اجلاس کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور شیو سینا (یو بی ٹی) میں جاری سیاسی اختلافات بھی موضوعِ بحث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی جانب سے ٹی ایم سی کے 20 اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے 6 ارکانِ پارلیمنٹ کو علیحدہ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کی درخواست پر فیصلے کے سب منتظر ہونگے۔ بھاجپا کی کوشش رہی ہے کہ مانسون اجلاس سے پہلے دونوں ایوانوں میں کسی طرح سے دو تہائی اکثریت کے قریب پہنچا جائے تاکہ گزشتہ پارلیمانی اجلاس خواتین کے لیے ریزرویشن اور لوک سبھا نشستوں میں 50 فیصد مجوزہ اضافے سے متعلق آئینی ترمیمی بل کو منظوری مل سکے۔
کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ!
وہیں دوسری طرف سے اسی ماہ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اب ایک سال آٹھ ماہ بعد اپنی کابینہ میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسمبلی والی یوٹی میں کابینہ میں وزیر اعلی سمیت وزراء کی حد نو ہے۔ایک انٹرویو میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے مجوزہ احتجاج سے قبل یا اس کے فوراً بعد کابینہ میں توسیع اور رد و بدل عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ 3 جولائی کو سری نگر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ اس سے پہلے عمر عبداللہ نے کئی مرتبہ کابینہ کی توسیع یا ردوبدل کے حوالے سے خبروں کو مسترد کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کابینہ میں کئی نئے شہرے شمالی، جنوبی اور وسطی کشمیر سے شامل کیے جا سکتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ دو موجودہ کابینی وزراء کو اپنی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کے بعد اپنی کرسی سے ہاتھ بھی دھونے پڑ سکتے ہیں۔داچھی گام میں ہوئی میٹنگ کے دوران نائب وزیر اعلی سریندر کمار چودھری، ستیش شرما اور جاوید رانا کی کارکردگی کو لے کر اراکین اسمبلی نے شدید ناراضگی ظاہر کی تھی۔ یہاں تک پیر پنچال کے کئی ایم ایل ایز نے سریندر چودھری پر انکے حلقوں کے ساتھ فنڈز کے معاملے میں امتیازی سلوک برتنے کا الزام لگایا۔ رپورٹس کے مطابق داچھی گام میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے نائب وزیر اعلیٰ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی تھی۔
وہیں نیشنل کانفرنس کے تقریباً ایک درجن ارکانِ اسمبلی اور دیگر کئی سینئر لیڈران کو مختلف سرکاری کارپوریشنز، بینکوں، بورڈز اور پبلک سیکٹر اداروں میں چیئرمین یا رکن کے طور پر تعینات کیے جانے کا بھی قوی امکان ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ کون سے نئے نام کابینہ میں شامل کیے جاتے ہیں اور کیا ان ناموں کے شامل ہونے سے پارٹی میں اپنی خلفشار کی خبریں ختم ہوتی ہیں یا مزید بڑھتی ہیں؟؟






