کشمیر کی سیاسی اور سماجی زندگی میں ایک ایسا رجحان تیزی سے جڑیں مضبوط کر رہا ہے جسے عام زبان میں’’جی حضوری‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ صرف حکمرانوں یا طاقتور حلقوں کی خوشامد تک محدود نہیں بلکہ سیاسی وابستگیوں، سرکاری تقاریب، اعزازات، ایوارڈز اور سماجی شناخت کے پورے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قابلیت، کردار اور عوامی خدمت کے بجائے قربت، وفاداری اور خوشنودی کو کامیابی کا پیمانہ سمجھا جانے لگا ہے۔
کشمیر کی سیاسی تاریخ مزاحمت، نظریاتی وابستگی اور عوامی جذبات سے عبارت رہی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں سیاسی منظرنامے میں ایسی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں جہاں اصولی سیاست کے مقابلے میں اقتدار کے قریب رہنے کی دوڑ نمایاں ہو گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے والے بعض افراد کی ترجیحات عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات، عہدوں اور مراعات کے حصول سے جڑی نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی وابستگی اب نظریاتی کم اور موقع پرستانہ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں، ثقافتی تنظیموں اور سماجی انجمنوں کی جانب سے سال بھر ایوارڈ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ادبی، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں متعدد شخصیات کو اعزازات دیے جاتے ہیں، جن میں مختلف ثقافتی ایوارڈز، ادبی تقریبات اور سماجی خدمات کے اعتراف کی محفلیں شامل ہیں۔
اصولی طور پر اعزازات کسی معاشرے میں مثبت مسابقت، محنت اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں، لیکن جب یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے کارکردگی سے زیادہ تعلقات اور قربت ضروری ہیں تو پھر ایسے اعزازات اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ اس صورتحال میں حقیقی اہل افراد حاشیے پر چلے جاتے ہیں جبکہ خوشامد کا کلچر مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
یہی رجحان سرکاری تقریبات، سیمیناروں اور ثقافتی پروگراموں میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے جہاں بعض اوقات تعریف و توصیف کا انداز تنقیدی شعور کے بجائے غیر مشروط ستائش کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں حکومتوں اور اداروں کی اچھی کارکردگی کو سراہنا ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ تعمیری تنقید اور جوابدہی کا عمل بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تعریف اور تنقید کے درمیان توازن ختم ہو جائے تو جی حضوری جنم لیتی ہے۔
کشمیر کے نوجوان، دانشور، صحافی اور سماجی کارکن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ خطے کو خوشامد نہیں بلکہ میرٹ، شفافیت اور اصول پسندی کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں نظریاتی وابستگی کو ترجیح دیں، اگر اعزازات کی تقسیم میں مکمل شفافیت ہو، اور اگر سماجی شناخت کا معیار قربت کے بجائے کارکردگی بن جائے تو جی حضوری کا کلچر خود بخود کمزور پڑ جائے گا۔
کشمیر کی ترقی کا راستہ چاپلوسی سے نہیں بلکہ آزاد فکر، میرٹ اور عوامی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ معاشرہ شخصیات کے بجائے اصولوں کو اہمیت دے اور اعزازات و مناصب کا معیار صرف اور صرف صلاحیت اور خدمت کو بنایا جائے۔ یہی رویہ ایک صحت مند، باوقار اور ترقی یافتہ کشمیر کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔






