امت نیوز ڈیسک //
تہران/واشنگٹن: آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ نے جنوبی ایران میں متعدد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق کارروائی میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، میزائل تنصیبات، ڈرون مراکز اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی حملوں کو دوطرفہ مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق بندر عباس، سیریک، جزیرہ قشم اور دیگر علاقوں میں متعدد دھماکے ہوئے، جن میں بعض شہری تنصیبات بھی متاثر ہوئیں اور کئی افراد زخمی ہوئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بوشہر صوبے میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون مار گرایا گیا، جبکہ کویت اور بحرین میں بھی فضائی خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ کویتی فوج کے مطابق میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔
ادھر امریکہ نے ایران کو تیل برآمد کرنے کی دی گئی رعایت بھی واپس لے لی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔






