ڈیسک رپورٹ/عاصم فاروق
ضلع کپواڑہ کے سرحدی قصبے ٹیٹوال میں لائن آف کنٹرول کے قریب قائم شاردا مندر کی پران پرتِشٹھا (افتتاحی مذہبی رسم) کی تیسری سالانہ تقریب (ورشک ابھیشیک) بدھ 1جولائی کے روز مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا اہتمام ’’سیو شاردا کمیٹی کشمیر ‘‘ نے کرناٹک کے’’شرنگیری شاردا پیٹھ‘‘ کے اشتراک سے کیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے سینکڑوں عقیدت مندوں اور ویدک پنڈتوں نے شرکت کی۔
منتظمین کے مطابق تقریب میں تقریباً چار سو زائرین نے دن بھر جاری رہنے والی مذہبی رسومات میں حصہ لیا، جبکہ شرنگیری شاردا پیٹھ سے تعلق رکھنے والے قریب تیس پجاریوں (آرچکوں) نے ویدک روایات کے مطابق خصوصی ابھیشیک، ہون، آرتی اور دیگر مذہبی عبادات انجام دیں۔ بعد ازاں مزید تقریباً تین سو زائرین بھی تقریب میں شامل ہوئے، جس کے نتیجے میں یہ اجتماع 2023ء میں مندر کی تعمیر و افتتاح کے بعد منعقد ہونے والی بڑی تقریبات میں شمار کیا گیا۔
تقریب کے دوران دریائے کشن گنگا (نیلم) سے مقدس پانی لا کر خصوصی ابھیشیک کیا گیا، جبکہ گرو وندنا، سنکلپ، گنپتی پوجا، سرسوتی ہون، سہسرنام ارچنا، نویدیہ اور منگل آرتی جیسی مذہبی رسومات بھی ادا کی گئیں۔ اس کے علاوہ چاروں ویدوں کی اجتماعی پاٹھ اور شاستر مباحثوں کا بھی انعقاد کیا گیا، جن میں مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے ویدک پنڈتوں نے شرکت کی۔
سیو شاردا کمیٹی کشمیر کے چیئرمین رویندر پنڈیتا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرنگیری شاردا پیٹھ کے پجاریوں اور ملک بھر سے آئے ہوئے زائرین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس مقام کی بڑھتی ہوئی مذہبی اہمیت کی عکاس ہے اور اس سے شاردا روایت کے احیاء کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
شاردا پیٹھ کی تاریخی اہمیت
شاردا پیٹھ برصغیر کے قدیم ترین علمی و مذہبی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق یہ عظیم درسگاہ موجودہ وادیٔ نیلم میں دریائے کشن گنگا کے کنارے واقع تھی اور صدیوں تک سنسکرت، فلسفہ، منطق، ادب اور مذہبی علوم کا ایک ممتاز مرکز رہی۔ ہندو روایت میں دیوی شاردا (سرسوتی) کو علم و حکمت کی دیوی تصور کیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اس مقام کو غیر معمولی تقدس حاصل رہا ہے۔
قدیم ہندوستان کے متعدد فلسفیوں اور مذہبی مفکرین کے بارے میں روایات ملتی ہیں کہ انہوں نے شاردا پیٹھ کا رُخ کیا، جبکہ بعض روایات کے مطابق آدی شنکراچاریہ نے بھی یہاں منعقد ہونے والے علمی مباحث میں شرکت کی تھی۔ اگرچہ ان روایات کے بعض تاریخی پہلوؤں پر اہلِ تحقیق کے درمیان مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم اس امر پر عمومی اتفاق ہے کہ شاردا پیٹھ صدیوں تک علم و دانش اور تہذیبی تبادلۂ خیال کا ایک نمایاں مرکز رہا۔
1947ء میں تقسیمِ ہند اور بعد ازاں جنگ بندی لائن (موجودہ لائن آف کنٹرول) کے قیام کے بعد اصل تاریخی شاردا پیٹھ تک کشمیر سے براہِ راست رسائی منقطع ہوگئی۔ حالیہ برسوں میں ٹیٹوال میں تعمیر کیے گئے نئے شاردا مندر کو بعض ہندو تنظیمیں اس تاریخی و مذہبی روایت کے احیاء کی ایک علامتی کوشش قرار دیتی ہیں۔
واضح رہےانتظامیہ کی جانب سے تقریب کے دوران مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور تمام مذہبی سرگرمیاںپُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئیں۔





