ڈیسک رپورٹ/علی عمران
بدھ مت کے روحانی پیشوا حضرت دلائی لامہ کی 91ویں سالگرہ اتوار 5جولائی کے روز لداخ کے جیوِتسال تدریسی میدان میں انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر ہزاروں عقیدت مند، مختلف مذاہب کے مذہبی و سماجی رہنما، سرکاری حکام، عوامی نمائندے اور ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مہمان شریک ہوئے اور دلائی لامہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کا آغاز خصوصی دعاؤں سے ہوا، جس کے بعد روایتی ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا۔ مختلف فنکاروں نے لداخ اور تبتی ثقافت کی جھلک پیش کرتے ہوئے حاضرین سے خوب داد وصول کی، جبکہ گوتم بدھ کی زندگی اور ان کی تعلیمات پر مبنی ایک ڈرامائی پیشکش بھی تقریب کا خاص مرکزِ نگاہ رہی۔ جیوِتسال کا وسیع میدان صبح ہی سے عقیدت مندوں سے بھر گیا تھا اور لوگ اپنے محبوب روحانی پیشوا کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کی درازیٔ عمر کے لیے دعائیں کرنے کے لیے بے تاب نظر آئے۔
اپنے خطاب میں دلائی لامہ نے کہا کہ دنیا کو آج سب سے زیادہ محبت، رحم دلی، برداشت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حقیقی دھرم محض مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ اس کی روح انسانوں اور تمام ذی روح مخلوقات کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا برتاؤ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدھ مت کی اصل تعلیمات انسان کے اندر رحم، محبت اور امن کے جذبات کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کے مطابق آج چین سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں بھی لاکھوں افراد بدھ مت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں اور یہی تعلیمات عالمی امن اور انسانی بھائی چارے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
اپنی سالگرہ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے دلائی لامہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں اکثر ایسے خواب آتے ہیں جن سے انہیں یہ اُمید بندھی ہے کہ وہ تقریباً 130 برس تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ ان کے اس جملے پر تقریب میں موجود ہزاروں افراد نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا اور ان کی صحت و درازیٔ عمر کے لیے دعا کی۔
تقریب سے سینٹرل تبتی ایڈمنسٹریشن کے صدر (سکیونگ) پینپا تسیرنگ، لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کے صدر شیرنگ دورجے لکروک، انجمن امامیہ لے کے صدر اشرف علی برچہ اور لداخ گونپا ایسوسی ایشن کے صدر گیشے لوبزانگ تاشی سمیت متعدد شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے دلائی لامہ کی عالمی امن، مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
دلائی لامہ کی سالگرہ کی یہ تقریب محض ایک مذہبی یا ثقافتی اجتماع نہیں تھی بلکہ اس نے ایک بار پھر دنیا کو امن، محبت، رواداری، باہمی احترام اور انسانیت کی خدمت کا وہ پیغام یاد دلایا جسے دلائی لامہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے اقوال و اعمال کے ذریعے عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ گزشتہ اتوار کی صبح لداخ کے صدر مقام لیہ پہنچےتھے، جہاں ہزاروں عقیدت مندوں، تبتی برادری، طلبہ، راہبوں، راہبات اور مقامی باشندوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ہوائی اڈے سے لے کر ان کی رہائش گاہ تک سڑکوں کے دونوں جانب ہزاروں افراد قطاروں میں کھڑے رہے۔
دلائی لامہ کے دورۂ لداخ کے پیش نظر مقامی انتظامیہ گزشتہ کئی ہفتوں سے وسیع پیمانے پر تیاریوں میں مصروف تھی۔ لداخ پولیس نے سکیورٹی، ٹریفک کی روانی، ہجوم پر قابو پانے، راستوں کی نگرانی اور دیگر انتظامی امور کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کی تاکہ دورہ ہر لحاظ سے پُرامن اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔انتظامیہ کی جانب سے دلائی لامہ کی رہائش گاہ اور جیوِتسال تدریسی میدان سمیت تمام مقامات کی صفائی، تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا۔ رہائش گاہ اور تدریسی مقام پر سی سی ٹی وی نگرانی، گاڑیوں کے خصوصی پاس، داخلی راستوں پر سخت نگرانی اور دیگر حفاظتی اقدامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔
دلائی لامہ تقریباً دو ماہ تک لداخ میں قیام کریں گے، جس دوران وہ مختلف مذہبی، روحانی، تعلیمی اور عوامی تقریبات میں شرکت کے علاوہ متعدد خطابات اور دعائیہ اجتماعات سے بھی خطاب کریں گے۔





