ڈیسک رپورٹ/شاہد لطیف
بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدرنتن نبین کے حالیہ دورۂ جموں و کشمیر نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا بھاجپا کا’’کشمیر مشن‘‘ ابھی تک ادھورا ہے یا پارٹی اپنے سیاسی ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے۔ نتن نبین نے جموں میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر میں بھی بھاجپا کی حکومت قائم ہوگی‘‘ اور’’جس طرح جموں میں کمل کھلا ہے، اسی طرح کشمیر میں بھی کمل کھلے گا۔‘‘
یہ بیان محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ اس سیاسی نظریے کا تسلسل ہے جس کی بنیاد بھارتیہ جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شاما پرساد مکھرجی نے 1950 کی دہائی میں رکھی تھی۔ بھاجپا آج بھی مکھرجی کو اپنی نظریاتی سیاست کا سب سے بڑا ستون قرار دیتی ہے اور ہر سال ان کی برسی اور یومِ پیدائش کو خصوصی طور پر مناتی ہے۔
شاما پرساد مکھرجی کون تھے؟
ڈاکٹر شاما پرساد مکھرجی ایک ممتاز سیاست دان، ماہرِ تعلیم اور بھارتیہ جن سنگھ کے بانی تھے۔ وہ آزاد ہندوستان کی پہلی مرکزی کابینہ میں بھی شامل رہے، تاہم بعد میں پنڈت جواہر لال نہرو کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے کابینہ سے مستعفی ہوگئے۔
1951 میں انہوں نے’’بھارتیہ جن سنگھ‘‘ کی بنیاد رکھی، جو بعد میں تبدیل ہو کر بھارتیہ جنتا پارٹی بنی۔ مکھرجی کا سب سے نمایاں سیاسی نعرہ تھا:’’ایک دیش میں دو نشان، دو ودھان، دو پردھان نہیں چلیں گے۔‘‘
یہ نعرہ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت اور الگ پرچم و آئین کے خلاف تھا۔
کشمیر سے تعلق اور گرفتاری
1953 میں جموں و کشمیر میں داخلے کے لیے’’پرمٹ سسٹم‘‘نافذ تھا۔ مکھرجی نے اس نظام کو چیلنج کرتے ہوئے بغیر اجازت جموں و کشمیر میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔
11 مئی 1953 کو انہیں ریاست کی سرحد پر گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں سرینگر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں نظربند رکھا گیا۔
23 جون 1953 کو سرینگر میں نظربندی کے دوران شاما پرساد مکھرجی کا انتقال ہوگیا۔ سرکاری طور پر ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ اور طبی پیچیدگیاں بتائی گئی، تاہم ان کی والدہ، جن سنگھ کے رہنماؤں اور بعد میں بھاجپا نے مسلسل یہ الزام عائد کیا کہ ان کی موت مشتبہ حالات میں ہوئی اور اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات نہیں کرائی گئیں۔
یہ معاملہ آج بھی سیاسی بحث کا موضوع ہے۔
آرٹیکل 370 اور بھاجپا کا مؤقف
بھاجپا کا کہنا ہے کہ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35-اے کی منسوخی کے ذریعے مکھرجی کا خواب پورا ہوا اور جموں و کشمیر مکمل طور پر بھارتی آئینی نظام میں ضم ہوگیا۔
نتن نبین نے اپنے حالیہ دورے میں بھی یہی مؤقف دہرایا کہ 2019 کے بعد جموں و کشمیر میں ترقی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے، خواتین کی شرکت اور نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اب کشمیر کو شورش کے بجائے امن، ترقی اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے جانا جا رہا ہے۔
کیا بھاجپا کا خواب مکمل ہوگیا؟
اگرچہ آئینی اعتبار سے آرٹیکل 370 کی منسوخی بھاجپا اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے، لیکن سیاسی اعتبار سے پارٹی کا ہدف ابھی مکمل نہیں ہوا۔ بھاجپا کی مضبوط بنیاد بنیادی طور پر جموں خطے میں ہے۔ کشمیر وادی میں پارٹی کی عوامی حمایت محدود رہی ہے۔مزید یہ کہ مرکز اور جموں و کشمیر دونوںمیں زمام اقتدار سنبھالنے کے باوجود اسمبلی انتخابات میں وادی سے خاطر خواہ نمائندگی حاصل کرنا اب بھی پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
اسی پس منظر میں نتن نبین کا یہ اعلان کہ’’کشمیر میں بھی کمل کھلے گا‘‘ دراصل تنظیمی توسیع اور مستقبل کی انتخابی حکمت عملی کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔
جہاں بھاجپا آرٹیکل 370 کی منسوخی کو قومی یکجہتی، ترقی اور امن کی بنیاد قرار دیتی ہے، وہیں علاقائی جماعتیں اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں اس اقدام کو ریاست کی خصوصی آئینی شناخت اور وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ قرار دیتی ہیں۔ اسی طرح 2019 کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی اثرات پر بھی مختلف حلقوں میں الگ الگ آراء پائی جاتی ہیں۔
نتن نبین کا دورۂ جموں و کشمیر صرف ایک تنظیمی سرگرمی نہیں بلکہ بھاجپا کے اس دیرینہ سیاسی بیانیے کی تجدید بھی ہے جس کا آغاز شاما پرساد مکھرجی نے کیا تھا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو پارٹی اپنی نظریاتی کامیابی قرار دیتی ہے، مگر کشمیر وادی میں مضبوط عوامی سیاسی بنیاد قائم کرنا اب بھی اس کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین کے نزدیک بھاجپا کا ’’کشمیر خواب‘‘ آئینی اعتبار سے جزوی طور پر پورا ضرور ہوا ہے، لیکن انتخابی اور سیاسی سطح پر اس کی تکمیل ابھی باقی ہے۔





