ڈیسک رپورٹ/کاشف قمر
تقریباً دو دہائیوں تک غزہ کی سول حکومت چلانے والی حماس نے ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت میں اپنی سول حکومت کے خاتمے اور موجودہ انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فیصلے کو جنگ سے تباہ حال غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں قومی سطح پر ایک ٹیکنوکریٹک (ماہرین پر مشتمل) سول انتظامیہ قائم کیے جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ تحلیل کر دیا جائے گا اور نئی قومی سول مینجمنٹ کمیٹی کے باضابطہ قیام تک ایک ایسی غیر جانبدار اور عوامی سطح پر قابل قبول شخصیت کو عبوری انتظامی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی جو روزمرہ کے سول امور کی نگرانی کرے گی۔
تاہم حماس نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سول حکومت سے علیحدگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تنظیم اپنے عسکری بازو یا ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہوگئی ہے۔ تنظیم کے مطابق انتظامی اختیارات نئی قومی انتظامیہ کو منتقل کیے جا سکتے ہیں، لیکن مزاحمتی ڈھانچہ، اسلحہ اور عسکری ونگ(القسام برگیڈ) اس فیصلے سے الگ معاملات ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔
2006ء کے انتخابات سے 2007ء کے تصادم تک
یاد رہےحماس نے جنوری 2006ء کے فلسطینی قانون ساز انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل کرکے برسوں سے فلسطینی سیاست پر غالب جماعت ’’الفتح‘‘ کو شکست دی تھی۔ تاہم اقتدار کی تقسیم، سکیورٹی اداروں کے کنٹرول اور حکومتی اختیارات پر اختلافات جلد ہی شدید سیاسی بحران میں تبدیل ہوگئے۔ کئی ماہ تک جاری کشیدگی بالآخر جون 2007ء میں مسلح تصادم پر منتج ہوئی، جس کے نتیجے میں حماس نے غزہ کی پٹی کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس کی قیادت میں الفتح مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے تحت حکومت کرتی رہی۔ یوں فلسطینی سیاسی نظام عملاً دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، جو آج تک برقرار ہے۔
جنگیں، محاصرہ اور انسانی المیہ
غزہ پر حماس کے اقتدار کے بعد اسرائیل نے مصر کے تعاون سے غزہ پر سخت زمینی، فضائی اور بحری پابندیاں عائد کردیں، جس سے یہ علاقہ طویل اقتصادی محاصرے، بے روزگاری اور انسانی بحران کی لپیٹ میں آگیا۔ گزشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان متعدد خونریز جنگیں ہوئیں، جن میں 2008ء، 2012ء، 2014ء، 2021ء اور اس کے بعد کے مختلف فوجی تصادم شامل ہیں۔ ہر جنگ نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید تباہ کیا اور لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا۔
7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے خطے کی صورتحال یکسر بدل دی۔ اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کو غیر معمولی تباہی، بڑے پیمانے پر جانی نقصان، لاکھوں افراد کی نقل مکانی اور سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی پس منظر میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، غزہ کی تعمیر نو اور جنگ کے بعد کے انتظامی نظام پر بین الاقوامی سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
نئی سیاسی بساط؟
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حماس کا حالیہ اعلان انہی سفارتی کوششوں کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جن کا مقصد غزہ میں ایسی مشترکہ سول انتظامیہ قائم کرنا ہے جو فلسطینی دھڑوں، عرب ممالک اور بین الاقوامی برادری کے لیے قابل قبول ہو۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو 2007ء کے بعد پہلی مرتبہ غزہ کے اقتدار کے سول ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی رونما ہوگی، تاہم مزاحمتی قوت کے طور پر حماس کا کردار بدستور برقرار رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے زیر نگرانی ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ ایمرجنسی کمیٹی کی تحلیل کے اعلان کا نوٹس لے رہا ہے، تاہم صورت حال کا جائزہ محض بیانات یا وعدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی سطح پر ہونے والی عملی پیش رفت سے لیا جائے گا۔ بورڈ نے زور دیا کہ غزہ کے لاکھوں متاثرہ شہریوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
مبصرین کے مطابق حماس کے اس فیصلے سے غزہ کی سیاسی سمت میں ایک نئے باب کا آغاز ہوسکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے، جنگ بندی کی پائیداری، اسرائیل کے موقف، عرب ممالک کے کردار اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے نتائج پر ہوگا۔
بتاتے چلیں کہ غزہ جنگ کے بعد مجوزہ امن منصوبے کے تحت ’’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ ‘‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد غزہ میں سول انتظامیہ اور بنیادی سرکاری خدمات کی عارضی نگرانی کرنا بتایا گیا۔ کمیٹی میں آزاد
فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) کو شامل کیا گیا ہے اور اس کی سربراہی علی شعث کو سونپی گئی۔کمیٹی نے 16 جنوری 2026 کو مصر میں اپنا باضابطہ کام شروع کیا، تاہم اسرائیل کی جانب سے ارکان کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث انتظامی اختیارات کی منتقلی میں تاخیر ہوئی۔رپورٹس کے مطابق کمیٹی کا بنیادی ہدف غزہ میں امن و امان کی بحالی، بجلی، پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور شہری انتظامیہ کو فعال بنانا ہے۔




