امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 16 جولائی: نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے چچا مصطفیٰ کمال کے انتقال پر تعزیت کے دوران دیے گئے اپنے بیان پر اٹھنے والے تنازع کے بعد کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل اور حقوق کے لیے آواز بلند کرنا جاری رکھیں گے۔
بڈگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ ان کے بیان کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں اور عوام کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو یہ محسوس ہوا کہ تعزیتی موقع پر ایسے مسائل اٹھانا مناسب نہیں تھا تو وہ اس وقت کے انتخاب پر معذرت خواہ ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایک یا دو دن احتراماً خاموش رہا جا سکتا ہے، لیکن اس کے بعد عوام کے مسائل اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں اور ان پر بات کرنا ضروری ہے۔
آغا روح اللہ نے کہا کہ مرحوم مصطفیٰ کمال سے ان کا قریبی تعلق تھا اور وہ ان کی سیاسی سوچ سے بخوبی واقف تھے۔ ان کے مطابق، "مجھے یقین ہے کہ مصطفیٰ کمال صاحب کی روح کو اس بات سے سکون ملے گا کہ میں پارٹی کے نظریے کے مطابق عوام کی آواز بلند کر رہا ہوں۔”
انہوں نے ذاتی غم اور کشمیری عوام کی طویل جدوجہد کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہر شخص اپنے گھر کے غم کو محسوس کرتا ہے، اسی طرح گزشتہ سات دہائیوں سے مشکلات اور ناانصافیوں کا سامنا کرنے والے کشمیری عوام کے دکھ درد کو بھی محسوس کیا جانا چاہیے۔
وزیرِ اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کے اس بیان پر، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "جو لوگ واقعی جموں و کشمیر کی فکر کرتے ہیں وہ 20 جولائی کو جنتر منتر میں ہمارا ساتھ دیں گے”، آغا روح اللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے عوام سے مینڈیٹ حاصل کیا جائے، پھر ایسے بیانات دیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بجلی کے نرخوں میں اضافے، تعمیراتی اجازت ناموں میں تاخیر اور دیگر عوامی مسائل سمیت ہر اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہیں گے جس کا وعدہ انہوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل عوام سے کیا تھا۔






