امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 15 جولائی: نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان سید آغا روح اللہ مہدی نے اپنی ہی جماعت کے نائب صدر اور وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے وعدوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور اب صرف ریاستی درجے (اسٹیٹ ہُڈ) کی بحالی کی بات کر رہے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روح اللہ مہدی نے کہا کہ عمر عبداللہ نے انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا کہ 2019 میں جموں و کشمیر سے جو آئینی اور سیاسی حقوق چھینے گئے، انہیں بحال کرایا جائے گا، لیکن اب ان کی پوری توجہ صرف ریاستی درجے کی بحالی پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا، "عمر عبداللہ اب صرف اس لیے ریاستی درجے کی بحالی کی بات کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی سیاسی طاقت واپس چاہتے ہیں، نہ کہ عوام کی امنگوں یا انتخابی وعدوں کی تکمیل۔”
روح اللہ مہدی نے مزید کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی تو پہلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے اعلان کردہ روڈ میپ کا حصہ ہے، پھر نیشنل کانفرنس نے اپنی سیاسی جدوجہد کو صرف اسی مطالبے تک کیوں محدود کر دیا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "اگر ریاستی درجے کی بحالی بی جے پی کے ایجنڈے میں شامل ہے، تو پھر بتائیے اصل بی جے پی کا ایجنٹ کون ہے؟”
رکنِ پارلیمان نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے اصل مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی جگہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کو سیاسی بیانیہ بنایا گیا ہے۔






