امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 21 جولائی: کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کو منگل کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ 7، لوک کلیان مارگ کے باہر دو گھنٹے سے زائد جاری دھرنے کے بعد دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
کانگریس نے پیر کے روز سی جے پی کی "چلو سنسد” ریلی پر دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا۔ بعد میں پارٹی نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔
راہل گاندھی اپنی بہن اور وائناڈ سے رکنِ پارلیمان پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوئے۔ بعد ازاں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور این سی پی (ایس پی) کی رہنما سپریا سولے بھی دھرنے میں شامل ہو گئیں۔
احتجاج کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم سے طلبہ پر پولیس کارروائی کے بارے میں جواب مانگنے آئے ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "طلبہ پر حملہ ہر بھارتی خاندان پر حملہ ہے” اور انصاف کے لیے ہر محبِ وطن شہری کو احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
اس سے قبل راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال بھی گئے، جہاں انہوں نے پولیس کارروائی میں زخمی ہونے والے مظاہرین کی عیادت کی۔
ادھر مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے انہیں اور مرکزی داخلہ سیکریٹری گووند موہن کو احتجاج ختم کرانے کے لیے بھیجا تھا۔ ان کے مطابق راہل گاندھی نے ابتدا میں صرف یہ مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس سے متعلق احتجاج پر بحث کرائے، جس پر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی۔
جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد راہل گاندھی نے ایک نیا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی یقین دہانی بھی مانگی۔ وزیر کے مطابق جب انہیں یاد دلایا گیا کہ پہلے صرف بحث کا مطالبہ کیا گیا تھا تو راہل گاندھی نے کہا کہ "اب میری مطالبات بدل گئے ہیں۔”
مرکزی وزیر نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کا اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا جمہوری روایات کے خلاف ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نیٹ اور اس سے متعلق تمام معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب کانگریس کا مؤقف ہے کہ حکومت طلبہ پر پولیس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کر رہی ہے اور اسی لیے احتجاج کیا گیا۔





