اُمت ڈیسک رپورٹ
سرینگر کے بمنہ علاقے میں ایک ایسا گوشہ بھی آباد ہے جہاں روزانہ سینکڑوں قدم چلنا سیکھتے ہیں، بے شمار ہاتھ پہلی مرتبہ خود اپنے بل پر کسی چیز کو تھامتے ہیں، خاموش لب پہلی بار الفاظ کا سہارا لیتے ہیں، اور وہ آنکھیں جن میں کبھی مایوسی بسی ہوتی تھی، اُمید کی نئی کرن سے روشن ہو جاتی ہیں۔
یہ وولنٹری میڈیکیئر سوسائٹی (VMS) ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس نے گزشتہ پانچ دہائیوں سے معذوری کو مجبوری نہیں بلکہ صلاحیت کے ایک مختلف اظہار کے طور پر دیکھا ہے۔ یہاں علاج صرف جسم کا نہیں ہوتا، یہاں انسان کی ٹوٹی ہوئی اُمیدوں کو بھی سہارا دیا جاتا ہے۔
22جولائی بدھ کے روز جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جب اس ادارے کے دروازے پر پہنچے تو یہ محض ایک سرکاری دورہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے سفر کا اعتراف تھا جو خاموشی، اخلاص اور خدمت کے جذبے سے نصف صدی سے جاری ہے۔
ایک خواب، جس نے ادارے کی شکل اختیار کی
سنہ 1970 میں جب کشمیر میں معذور افراد کے لیے نہ کوئی مربوط بحالی نظام موجود تھا اور نہ ہی سماجی شعور، تب معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر میر محمد مقبول نے ایک ایسا خواب دیکھا جسے بہت سے لوگ شاید ناممکن سمجھتے تھے۔
وہ خواب تھا کہ معذور افراد بھی معاشرے کے فعال، باوقار اور خودمختار شہری بن سکتے ہیں۔
چند ڈاکٹروں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ انہوں نے وادی کے دور افتادہ دیہات کا رُخ کیا۔ وہ ان گھروں تک پہنچے جہاں معذوری کے شکار بچے برسوں سے چار دیواری میں قید تھے۔ مصنوعی اعضا، وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات خود ان کے گھروں تک پہنچائے گئے، مریضوں کو اسپتال منتقل کیا گیا اور یوں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جو آج ہزاروں خاندانوں کی اُمید بن چکی ہے۔
خدمت، جس کا چراغ کبھی نہیں بجھا
کشمیر نے گزشتہ پچاس برسوں میں بے شمار سیاسی، سماجی اور قدرتی آزمائشیں دیکھی ہیں۔ شورش، سیلاب، بندشیں اور غیر یقینی حالات بارہا زندگی کا معمول بدلتے رہے، مگر وی ایم ایس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوئے۔
اسی استقامت نے اس ادارے کو آج جموں و کشمیر کی سب سے معتبر بحالی تنظیم بنا دیا ہے، جہاں جدید فزیوتھراپی، خصوصی تعلیم، نفسیاتی بحالی، مصنوعی اعضا، پیشہ ورانہ تربیت اور سماجی انضمام کی سہولیات ایک مربوط نظام کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایک ایسا سوال، جو ابھی باقی ہے
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے خطاب میں خصوصی افراد کے لیے حکومت کے عزم کا اظہار کیا اور پیرا ایتھلیٹس کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
یہ یقین دہانی خوش آئند ضرور ہے، مگر ایک سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے۔
اگر ہماری سرکاری عمارتوں کی سیڑھیاں ہی خصوصی افراد کے لیے ناقابلِ عبور ہوں، اگر تعلیمی ادارے، بازار، پارک اور ٹرانسپورٹ ان کے لیے قابلِ رسائی نہ ہوں، اگر ایک باصلاحیت نوجوان صرف اس لیے ملازمت سے محروم رہ جائے کہ معاشرہ اس کی صلاحیت سے زیادہ اس کی معذوری کو دیکھتا ہے، تو پھر ترقی کے دعوے کتنے مکمل ہیں؟
کھیل صرف تمغے نہیں، اعتماد بھی دیتے ہیں
وی ایم ایس کے عہدیداروں نے لیفٹیننٹ گورنر کے سامنے جو تجاویز رکھیں، وہ محض چند ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ ایک نئی سوچ کی نمائندہ ہیں۔
پیرا اسپورٹس ایسوسی ایشن کا قیام، جدید انڈور اسپورٹس ہال، روبوٹک فزیوتھراپی، اسپورٹس وہیل چیئرز، بین الاقوامی معیار کی کوچنگ اور عالمی مقابلوں تک رسائی ،یہ سب اس یقین کا اظہار ہیں کہ خصوصی افراد بھی وہی خواب دیکھ سکتے ہیں جو دوسرے نوجوان دیکھتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اولمپکس اور پیرا اولمپکس میں طلائی تمغے جیتنے والے کئی کھلاڑی وہ تھے جنہیں کبھی معاشرے نے ’’کمزور‘‘ قرار دیا تھا۔
معذوری نہیں، معاشرتی رکاوٹ اصل مسئلہ ہے
جدید دنیا اب معذوری کو فرد کی کمزوری نہیں سمجھتی بلکہ ایسے سماجی اور جسمانی ماحول کو اصل رکاوٹ قرار دیتی ہے جو ہر شہری کے لیے برابر مواقع فراہم نہیں کرتا۔
کشمیر میں بھی اب وقت آ چکا ہے کہ سرکاری منصوبہ بندی کے ہر مرحلے میں خصوصی افراد کو شامل کیا جائے۔ نئی عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں، تفریحی مقامات اور ٹرانسپورٹ کو اس انداز سے تعمیر کیا جائے کہ کوئی شخص صرف جسمانی معذوری کی وجہ سے معاشرے سے کٹ کر نہ رہ جائے۔
ایک ادارہ، جو صرف عمارت نہیں، ایک نظریہ ہے
بمنہ میں پھیلا ہوا وی ایم ایس کا سرسبز کیمپس دراصل اینٹوں اور سیمنٹ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس یقین کی علامت ہے کہ اگر معاشرہ کسی فرد کا ہاتھ تھام لے تو وہ اپنی کمزوری کو بھی طاقت میں بدل سکتا ہے۔
یہ ادارہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ فلاحی کام صرف چند عطیات یا سرکاری گرانٹس سے نہیں چلتے، بلکہ ان کے پیچھے انسان دوستی، صبر اور مسلسل جدوجہد کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔
حرف آخر:
معاشرے کی اصل ترقی بلند عمارتوں، چوڑی سڑکوں اور اقتصادی اعداد و شمار سے نہیں ناپی جاتی۔ اس کا معیار یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور اور سب سے زیادہ محتاج شہریوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔
وولنٹری میڈیکیئر سوسائٹی نے گزشتہ پچپن برسوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو محدود وسائل بھی بڑے معجزے دکھا سکتے ہیں۔
اب باری حکومت، سماج، صنعت کاروں، تعلیمی اداروں اور ہم سب کی ہے کہ اس سفر کو آگے بڑھائیں۔ کیونکہ جب کسی خصوصی بچے کے قدموں میں اعتماد آتا ہے، جب کوئی نوجوان پہلی بار وہیل چیئر پر بیٹھ کر کھیل کے میدان میں اُترتا ہے، یا جب کوئی معذور شخص اپنے ہنر سے روزگار کماتا ہے، تو کامیابی صرف اس ایک فرد کی نہیں ہوتی، بلکہ پورا معاشرہ ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہی ایک مہذب، حساس اور باوقار معاشرے کی پہچان بھی ہے۔

کھیل صرف تمغے نہیں، اعتماد بھی دیتے ہیں









